لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ میں بریگزیٹ معاہدے کے ایک دہائی بعد سیاسی فضا ایک بار پھر گرم ہو گئی ، برطانیہ کے نصف سے زائد عوام نے یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت کردی ، صرف سنگل مارکیٹ تک محدود رہنے کا آپشن کم مقبول ہوتا جا رہا ہے۔
برطانیہ نے بریگزٹ معاہدہ ختم ہونے کے بعد برطانیہ میں مستقل قیام نہ کرنے والے یورپین یونین کےشہریوں کے رہائشی حقوق ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا،لیبر پارٹی ،لبرل ڈیموکریٹس اورگرین پارٹی کے اسی فیصد سے زائد حامیوں نے حکومتی فیصلہ مسترد کردیا۔
برطانوی ووٹرز میں صرف سنگل مارکیٹ میں واپسی کے بجائے یورپی یونین میں مکمل طور پر دوبارہ شامل ہونے کی حمایت بڑھ رہی ہے جبکہ لیبر، لبرل ڈیموکریٹ اور گرین پارٹی کے 80 فیصد سے زائد حامی اس آپشن کے حق میں ہیں۔
ماہرین کے مطابق برطانیہ کو گزشتہ برسوں میں بریگزٹ کے بعد معاشی سست روی، مہنگائی، افرادی قوت کی کمی اور تجارتی رکاوٹوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس نے عوامی رائے میں واضح تبدیلی پیدا کی۔ کاروباری حلقے بھی یورپی منڈیوں تک آسان رسائی کے لیے دوبارہ قریبی تعلقات کے حامی بن رہے ہیں۔
دوسری جانب لیبر پارٹی کی قیادت اس معاملے پر محتاط حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ پارٹی نہ مکمل واپسی کا اعلان کر رہی ہے نہ ہی مکمل علیحدگی پر قائم ہے، جسے ماہرین درمیانی راستہ قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی لیبر کو دو طرفہ دباؤ میں لا سکتی ہے۔ ایک طرف ترقی پسند ووٹرز ہیں جو یورپی یونین میں واپسی چاہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ریڈ وال کے وہ حلقے ہیں جنہوں نے بریگزٹ کی حمایت کی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر لیبر پارٹی نے واضح مؤقف اختیار نہ کیا تو اسے آئندہ انتخابات میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان ووٹرز اور شہری علاقوں میں یورپی یونین کے حق میں بڑھتی رائے پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ادھر برطانوی حکومت ابھی تک یورپی یونین میں واپسی کے کسی امکان کو مسترد کر رہی ہے، تاہم عوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ معاملہ برطانوی سیاست کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے، اور ممکن ہے کہ مستقبل میں ایک اور ریفرنڈم کی بحث بھی زور پکڑ لے۔
بریگزٹ کے دس سال بعد، برطانیہ ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے ۔ کیا ملک ماضی کے فیصلے پر نظرثانی کرے گا یا موجودہ راستے پر قائم رہے گا؟ یہ سوال نہ صرف سیاست بلکہ معیشت اور عوامی مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم بن چکا ہے۔












