اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے۔سفارتکاری نے ہتھیاروں کو پیچھے دھکیل دیا۔ پاکستان بن گیا عالمی امن کا سب سے بڑا کھلاڑی، کیا امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ ہونے جا رہا ہے؟
پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کا امکان ہے ،رپورٹس کے مطابق جنگ بندی میں توسیع کا مقصد امن معاہدے پر بات چیت کے لیے مزید وقت دیناہے، ثالث ممالک مسائل کے حل کیلئے تکنیکی بات چیت کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،ان مسائل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کی جوہری افزودگی شامل ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کیلئے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے۔
وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل کے دورہ ایران کے دوران مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر غور کیا گیا،وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی ہیں ۔
دوسری طرف امریکی صدر نے مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں ہونے کا گرین سگنل دے دیا جس کے بعد وزیر اعظم آفس کا وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کو تیاریوں کا حکم دیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق امریکا کی نمائندگی جے ڈی وینس،اسٹیووٹکوف اورجیرڈ کشنرکریں گے، ایران کی جانب سے اسپیکرباقرقالیباف اور عباس عراقچی شریک ہونگے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کا عندیہ دے دیا ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کےساتھ جنگ ختم ہونے کےقریب ہے،امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے ، آنے والے دو دن اہم ہوں گے ، ایران جنگ کا اختتام کسی بھی صورت میں ہو سکتا ہے، ہمارا جھکاؤ پاکستان جانے کی طرف زیادہ ہے، امریکی صحافیوں کو پاکستان میں رہنا چاہیئے ۔ اگلے 2دنوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے ، اب جو مذاکرات ہوں گے وہ مکمل جنگ بندی کیلئے ہوں گے ، پاکستان کے توسط سے مذاکرات جاری رہنے چاہیئں ،نیوز کانفرنس میں اسماعیل بقائی بولے ایران جوہری ہتھیاروں میں دلچسپی نہیں رکھتا ، ایران کے بارے میں کہنا کہ چند دن میں ایٹم بم بنا لے گا قطعی غلط ہے،ایران نے ہمیشہ کہا جوہری افزودگی کے بارے میں بات چیت ہو سکتی ہے جوہری صلاحیت کو توانائی کیلئے استعمال کرنا ایران کا حق ہے، ۔خطے میں کسی کی بالا دستی قبول نہیں کرینگے۔امریکا کی طرف سے سمندری ناکہ بندی عالمی قوانین اور جنگ بندی کی خلاف وزی ہے۔







