نیویارک: (پاک ترک نیوز) — امریکا کی سرکردہ یہودی تنظیموں نے نیویارک سٹی کے نئے میئر زہران ممدانی کے ابتدائی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے پہلے ہی دن یہود دشمنی کے خلاف موجود اہم حفاظتی اقدامات واپس لے لیے ہیں۔
یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب ممدانی نے عہدہ سنبھالنے کے ایک دن بعد سابق میئر کی جانب سے جاری کئی ایگزیکٹو آرڈرز منسوخ کر دیے۔ اس مشترکہ بیان پر فیڈریشن آف نیویارک، جیوش کمیونٹی ریلیشنز کونسل آف نیویارک، اینٹی ڈیفیمیشن لیگ، امریکن جیوش کمیٹی، نیویارک بورڈ آف ربیّز، اگوداتھ ، اسرائیل آف امریکا اور آرتھوڈوکس یونین کے دستخط تھے۔
یہ بیان اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ مختلف نظریات رکھنے والی بڑی یہودی تنظیمیں ایک ہی موقف پر متحد نظر آئیں۔ بیان میں کہا گیا: میئر ممدانی نے ایک جامع اور نفرت سے پاک نیویارک بنانے کا وعدہ کیا تھا، مگر نئی انتظامیہ نے سابق میئر ایرک ایڈمز کے ایگزیکٹو آرڈرز منسوخ کرتے ہوئے یہود دشمنی کے خلاف دو اہم تحفظات واپس لے لیے ہیں.
شہر میں IHRA (انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس) کی یہود دشمنی سے متعلق تعریف کا اطلاق اسرائیل کے خلاف (بائیکاٹ، سرمایہ کاری کی واپسی اور پابندیاں) تحریک کی مخالفت پر مبنی اقدامات۔
تاہم ممدانی نے وضاحت کی کہ انہوں نے کسی ایک حکم کو ہدف نہیں بنایا بلکہ ستمبر 2024 میں ایڈمز پر بدعنوانی کے الزامات کے بعد جاری ہونے والے تمام ایگزیکٹو آرڈرز منسوخ کیے، جن میں یہ دونوں اقدامات بھی شامل تھے۔
قانون کے مطابق، نیا میئر اپنے پیشرو کے ایگزیکٹو آرڈرز کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ایرک ایڈمز اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جاتے تھے اور ان کے یہودی برادری سے قریبی تعلقات تھے، جبکہ زہران ممدانی ایک بائیں بازو کے اینٹی زایونسٹ سیاستدان ہیں۔
ان کے اسرائیل مخالف بیانات نے بہت سے یہودیوں میں یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ ان کی پالیسیاں یہودی برادری کے خلاف نفرت کو ہوا دے سکتی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر بعض تنقید کو یہود دشمنی کے زمرے میں لانا اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کر سکتا ہے۔یہ تعریف ممدانی کے لیے اس لیے بھی مسئلہ بن سکتی تھی کیونکہ IHRA کے مطابق یہودیوں کے حقِ خودارادیت سے انکار امتیازی رویہ ہے، جبکہ ممدانی متعدد مواقع پر اسرائیل کو بطور یہودی ریاست تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔
تاہم یہودی تنظیموں نے ممدانی کے ایک اقدام کا خیرمقدم بھی کیا، جس کے تحت عبادت گاہوں کے باہر ہونے والے مظاہروں سے متعلق پولیس کے رویے کا جائزہ لیا جائے گا۔
اسی طرح انہوں نے سابق میئر کی جانب سے قائم کیے گئے دفتر برائے انسدادِ یہود دشمنی کو برقرار رکھنے کے فیصلے کی بھی حمایت کی، اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ دفتر اب یہود دشمنی کی تعریف کیسے کرے گا یا اینٹی زایونسٹ واقعات سے کیسے نمٹے گا۔









