نیویارک : (پاک ترک نیوز)نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے یہود مخالفت (اینٹی سیمیٹزم) سے نمٹنے کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا ہے جس نے خود یہودی اور صیہونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
میئر ممدانی نے فلیسا وِزڈم کو میئر آفس ٹو کامبیٹ اینٹی سیمیٹزم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ فلیسا وِزڈم 2023 سے نیویارک جیوئش ایجنڈا (NYJA) نامی تنظیم کی قیادت کر رہی ہیں، جو خود کو “لبرل اور ترقی پسند صیہونیوں” کی نمائندہ تنظیم قرار دیتی ہے اور اسرائیل کے بطور یہودی ریاست وجود کے حق کی حمایت کرتی ہے۔
اگرچہ وِزڈم نے اس تقرری پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کی تقرری کی تصدیق خود ان کے اور میئر ممدانی کے ترجمان نے کر دی۔
اس تقرری پر سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور معروف ربی موسے ڈیوس نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے دی یروشلم پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:“یہودی مخالفت کا مقابلہ خوبصورت ویڈیوز یا کھوکھلے بیانات سے نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے ٹھوس پالیسیاں، بجٹ، عملدرآمد اور مستقل نگرانی درکار ہوتی ہے۔”
ربی ڈیوس نے خبردار کیا کہ یہ دفتر علامتی نہیں بلکہ عملی کردار کے لیے بنایا گیا تھا، اور اگر اس کی قیادت کے پاس حکومتی تجربہ اور یہودی برادری کا اعتماد نہ ہوا تو یہ دفتر مشکل وقت میں ناکام ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب میئر ممدانی کے قریبی اتحادی اور نیویارک جیوئش ایجنڈا کے شریک بانی بریڈ لینڈر نے فلیسا وِزڈم کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف نظریات رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ تقرری اس وقت سامنے آئی ہے جب ممدانی نے اپنے پہلے ہی دن سابق میئر ایرک ایڈمز کے اینٹی بی ڈی ایس (اسرائیل کے بائیکاٹ مخالف) ایگزیکٹو آرڈر کو ختم کر دیا تھا، جس کے بعد یہودی قیادت ممدانی کے اسرائیل مخالف ماضی پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔
کچھ قدامت پسند اور آرتھوڈوکس یہودی حلقوں نے وِزڈم کے ماضی کے کردار پر بھی سوال اٹھائے ہیں، خاص طور پر ان کی اُس تنظیم سے وابستگی پر جو حاسدی اور ہریدی مدارس کے تعلیمی نظام پر سرکاری نگرانی کی حامی رہی ہے۔
ادھر وِزڈم کا انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرینس الائنس (IHRA) کی اینٹی سیمیٹزم تعریف کی مخالفت کرنا بھی تنازع کی بڑی وجہ بن گیا ہے۔
یہ تعریف دنیا کے 50 سے زائد ممالک اور امریکہ کی 37 ریاستوں میں تسلیم شدہ ہے، مگر وِزڈم اور ممدانی دونوں اس کی قانونی حیثیت کے خلاف ہیں۔
سینئر ربی مارک شنائر نے اس موقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:“یہودی مخالفت سے نمٹنے والا سربراہ یہ بنیادی حقیقت سمجھے کہ اسرائیل کو یہودیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔”








