واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے گئے غزہ پیس بورڈ کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ آئندہ مرحلے میں مسئلہ کشمیر کو بھی اس فورم پر لائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس پر بھارت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے غزہ کی تعمیر نو، جنگ بندی اور عبوری انتظامی نظام کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی پیس بورڈ تشکیل دیا ہے، جس میں بھارت کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔
تاہم یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ نئی دہلی اس پیشکش کو قبول کرے گا یا اسے نظر انداز کرے گا۔ذرائع کے مطابق پیس بورڈ میں پاکستان، ترکیے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت درجنوں ممالک پہلے ہی شمولیت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر انسٹھ ممالک اس فریم ورک پر دستخط کر چکے ہیں۔
ڈیووس میں ہونے والی حالیہ تقریب میں انیس ممالک کی باضابطہ نمائندگی موجود تھی، مگر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے باوجود دعوت کے شریک نہ ہونے پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
برطانوی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا پیس بورڈ سے دور رہنے یا قریب آنے کا فیصلہ نہ صرف مغربی ایشیا میں استحکام بلکہ امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پلیٹ فارم کو غزہ سے آگے بڑھاتے ہیں تو مسئلہ کشمیر جیسے دیرینہ تنازع کو بھی عالمی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے، جو بھارت کے لیے ایک غیر متوقع چیلنج ہوگا۔
تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے واضح اشارہ دیا کہ یہ اقدام صرف امریکا کے مفاد تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا ماڈل ہے جسے دنیا کے دیگر تنازعات پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے سابق سفارتکار اس منصوبے پر منقسم نظر آتے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق اس میں شمولیت بھارت کو ایسے فیصلوں کی اخلاقی توثیق پر مجبور کر سکتی ہے جو اس کے مؤقف سے متصادم ہوں، جبکہ دیگر حلقے اسے ایک غیر معینہ مدت تک چلنے والا سیاسی تجربہ قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات غزہ سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔












