لاہور: (پاک ترک نیوز)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں حصہ لینے یا نہ لینے کا حتمی فیصلہ آج ہوگا۔
چیئرمین پی سی بی وزیر اعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد حتمی اعلان کریں گے، جس میں ٹیم کے مکمل بائیکاٹ یا صرف بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
پی سی بی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ کرنے کا سب سے زیادہ امکان ہے، جبکہ ٹیم کے باقی میچز میں شرکت برقرار رہ سکتی ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے اصولی موقف کے طور پر لیا جائے گا تاکہ کھیل کے دوران غیر مساوی رویوں اور عالمی کرکٹ میں دہرے معیار کے الزامات کو اجاگر کیا جا سکے۔ محسن نقوی نے گزشتہ روز بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے اس مؤقف کی حمایت کی تھی کہ وہ بھارت میں میچ نہیں کھیلیں گے۔
بنگلادیش کا موقف اصولوں پر مبنی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اسی اصول کو اپناتے ہوئے آئی سی سی کے دہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔
اب اگر پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ کرتی ہے تو یہ عالمی کرکٹ میں ایک بڑا سیاسی اور اسپورٹس ایونٹ کا اہم موڑ ہوگا۔
پاکستان کی یہ ممکنہ کارروائی دنیا بھر میں کرکٹ کے اصولوں اور عالمی کھیل کے معیار پر سوالیہ نشان لگانے کا باعث بن سکتی ہے۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
اس سال بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ کی صورت میں شائقین کرکٹ اور میڈیا دونوں شدید ردعمل دے سکتے ہیں۔
پی سی بی کی یہ کارروائی اصولی موقف کے ساتھ ساتھ کھیل کے اندر انصاف اور مساوات کے فروغ کے پیغام کے طور پر بھی دیکھی جائے گی۔پاکستان کے ممکنہ اقدام کا فیصلہ آج متوقع ہے اور اس سے عالمی کرکٹ، آئی سی سی کے فیصلے اور خطے کے کرکٹ تعلقات پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔












