اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائزنز (پی آئی اے )کی نجکاری کے لیے بولی کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دوسرا مرحلہ جاری ہے جس کے دوران لکی سیمنٹ پر مشتمل کنسورشیم نے پی آئی اے کی خریداری کیلئے 101ارب پچاس کروڑ روپے کی بولی دیدی۔
لکی سیمنٹ کنسورشیم نےسب سے پہلے بڈ جمع کرائی،ایئربلوگروپ کےنمائندے اور عارف حبیب کنسور شیم نے بھی بولی جمع کرا دی ہے، بولیاں ریزرو پرائس سے زائد ہونے کی صورت میں کھلی نیلامی ہوگی، بصورت دیگر سب سے زیادہ بولی دہندہ کو قیمت میچ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا پلان ہے، کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصد حصص خریدنے کیلئے 90 دن کی مہلت دی جائے گی حکومت نےگزشتہ سال پی آئی اے کے 654 ارب روپے کے واجبات اپنے ذمہ لے لئے تھے۔
انگلینڈ اور باقی یورپ کے روٹس بحال ہوچکے، اس بار پی آئی اے کی نجکاری زیادہ پُرکشش ہے، نجکاری کمیشن کے مطابق فوجی فرٹیلائزرکمپنی نے بولی کے عمل سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
پی آئی اے نجکاری کی دوڑ میں اب تین پری کوالیفائیڈ گروپ باقی رہ گئے ہیں،ایئر بلیو کےعلاوہ لکی سیمنٹ اورعارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں 2 کنسورشیم بھی میدان میں ہیں۔
نجکاری کمیشن کےمطابق 75 فیصد حصص کی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے میں سرمایہ کاری کیلئے استعمال ہو گا،باقی ساڑھے سات فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔
نجکاری کمیشن حکام کےمطابق ممکنہ سرمایہ کار کو پی آئی اے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے اگلے 5 سال کےدوران 80 ارب روپےکی سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔
اسے ایوی ایشن، کارگو بزنس، ٹریننگ ونگ، کچن بزنس دیا جائے گا،پی آئی اے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ شرائط میں شامل ہیں،پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعدمراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہوں گی۔
نئے مالکان موجودہ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کےذمہ دار ہوں گے،ادارے کے مالی استحکام کیلئے فوری سرمایہ کاری ،پیشہ ورانہ انتظام کی ضرورت ہوگی۔
پی آئی اے کی نجکاری کیلئے دوسرے مرحلے کی کاروائی کا آغاز ہوا، دوسرے مرحلے میں بڈز کھولیں جائیں گی اور ریزرو پرایس سے میچ کی جانے تھی، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ حکومت نے پی آئی اے کے اکیاون سے سو فیصد تک حصص کی نجکاری کا فیصلہ کیا، جو بڈرز آئے ان میں سے کچھ کی ڈیمانڈ کی کہ وہ پچھتر فیصد حصص خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ کچھ سو فیصد میں دلچسپی رکھتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 75 فیصد حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کیا، حکومت کا مقصد صرف پی آئی اے بیچنا اور پیسے لینا نہیں بلکہ پی آئی اے کو ایک بہترین ایئر لائن بنانا ہے، اس کیلئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس کیلئے سٹرکچر پر نظر ثانی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی مرتبہ ساتھ فیصد شیئرز کی نجکاری کی جارہی تھی، جو نجکاری ہونے جارہی ہے اس میں پیمنٹ کا شیڈول دیا گیا ہے، دو تہائی پیمنٹ شروع میں دیں گے باقی بعد میں دیں گے، جو باقی رقم ہے اسے بھی محفوظ بنایا گیا ہے، پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو صاف و شفاف بنانے کو یقینی بنایا گیا ہے۔
نجکاری کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد دیگر اداروں کی نجکاری کی راہ ہموار ہوگی، حکومت نے اپریل میں فیصلہ کیا تھا 51 سے 100 فیصد تک شیئر بیچے جائیں گے، ہماری خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ بولی دہندہ سامنے آئیں، پی آئی اے کی موجودہ بولی 75 فیصد کی ہے خریدار دیگر شیئرز بھی خرید سکے گا، پی آئی اے کی خریداری کی رقم میں سات فیصد حکومت کو ملے گا۔
پی آئی اے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ کھویا ہوا مقام پالے ، گزشتہ بار پندرہ فیصد حکومت کو دیا جانا تھا، خریدار کو دو تہائی شروع میں باقی ایک سال میں کرنا ہوگا، خریدار اگر چاہیں تو مزید دو کمپنیوں کو حکومتی اجازت کے ساتھ شامل کرسکیں گے، پی آئی اے کی نجکاری کیلئے لوکل اور بیرونی اخبارات میں اشتہارات شائع کروائے۔
لکی سیمنٹ پر مشتمل کنسورشیم نے پی آئی اے کی خریداری کیلئے 101ارب پچاس کروڑ روپے کی بولی دی۔












