اسلام آباد:(پاک ترک نیوز)کابینہ کے اراکین کا کہنا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے بعد ملک میں غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور یہ معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے زیر صدارت حالیہ اجلاس میں کابینہ کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ پی آئی کی کامیاب نجکاری عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہے، اور ورلڈ بینک کے ایک ماہر نجکاری نے بولی کے عمل کو شفافیت میں عالمی معیار کا قرار دیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اعلیٰ سطح کی شفافیت اور میرٹ کے پیش نظر ناقدین کو بھی حکومت کی مخلصی اور معیشت کی بہتری و جدید کاری کے لیے لگن کو تسلیم کرنا پڑا۔
اپنے ابتدائی کلمات میں وزیر اعظم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اےکی نجکاری کے لیے بولی کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا، جس میں حکومت کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی پیشکش کی گئی۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ یہ بولی 100 ارب روپے کے ریفرنس پرائس سے کہیں زیادہ تھی، جو سرمایہ کاروں کے پاکستان کی اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ ماضی میں پی آئی اے کی نجکاری کی متعدد کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں، تاہم متعلقہ افراد کی مخلص کوششوں کے باعث اب یہ عمل مکمل ہوا۔
انہوں نے وفاقی وزرا اور حکومتی اہلکاروں کی محنت کو سراہا اور خاص طور پر مشیر نجکاری محمد علی کی ہمت اور عزم کو کامیاب نتیجے تک پہنچانے پر خراج تحسین پیش کیا۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ نجکاری کا پورا عمل شفاف انداز میں کیا گیا، بولی عوامی نظر کے سامنے ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر کی گئی۔اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ نجکاری کے ڈھانچے کے تحت کامیاب بولی دہندہ پی آئی اے کی انتظامیہ سنبھالنے کے بعد ایئر لائن کو مضبوط کارپوریٹ اور مینجمنٹ اصولوں کے تحت چلائے گا اور طیارہ بیڑے کو جدید بنائے گا۔
اس مقصد کے لیے بولی دہندہ کو PIA میں 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ ایئر لائن کی حالیہ منافع بخش صورتحال مزید مضبوط ہو سکے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نئی انتظامیہ کے پاس اس بات کی ترغیب ہوگی کہ وہ نجکاری کے سرمایہ کاری دوست شرائط سے بھرپور فائدہ اٹھا کر قومی پرچم بردار ایئر لائن کو دوبارہ عالمی سطح پر اس کی سابقہ عظمت دلائے۔
وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ PIA کی نجکاری دیگر سرکاری اداروں کی فروخت کے لیے بھی محرک ثابت ہوگی۔کابینہ کے اراکین نے PIA کی نجکاری کو ممکن بنانے والی بصیرت، انتظامی قابلیت اور مؤثر فیصلے سازی کو سراہا اور کہا کہ یہ وہ کامیابی ہے جو ماضی کی حکومتیں حاصل نہیں کر سکیں۔












