اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) آئی ایم ایف کا زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری پر چھوٹے کسانوں کیلئے قرضوں کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ،عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق نجکاری سے چھوٹے کاشتکاروں کیلئے زرعی قرضوں اور ترقیاتی فنانسنگ تک رسائی مشکل ہوسکتی ہے،زرعی مردم شماری کے مطابق پاکستان کے 97 فیصد کسانوں کے پاس 12.5 ایکڑ سے کم زرعی زمین ہے،زرعی ترقیاتی بینک کم آمدن والے کسانوں کو قرض فراہم کرتا ہے۔زرعی ترقیاتی بینک کے خراب قرضے کم ہوکر 50 ارب روپے تک آگئے۔بینک نے تین سال میں نادہندہ قرضوں میں تقریباً 25 فیصد کمی کردی،گزشتہ ایک سال میں زرعی ترقیاتی بینک کے خراب قرضے 8 ارب روپے کم ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق گورننس اصلاحات اور ریکوری اقدامات سے زرعی ترقیاتی بینک کی مالی صورتحال بہتر ہوئی۔زرعی ترقیاتی بینک نے تین سال میں 9.8 ارب روپے کی ریکوری کی۔بینک کا مجموعی منافع تین سال میں 70 ارب روپے تک پہنچ گیا۔زرعی ترقیاتی بینک کا منافع گزشتہ دو دہائیوں کے مجموعی منافع سے 280 فیصد زیادہ رہا۔
رپورٹ ک مطابق وزیراعظم کسان پیکیج کے تحت 42 ارب روپے کے قرضے تقسیم کیے گئے۔زرعی ترقیاتی بینک کی ایکویٹی بڑھ کر 95 ارب روپے ہوگئی۔












