نئی دہلی : (پاک ترک نیوز)مودی کی قیادت میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کھلے عام اسرائیلی ماڈل کو اپنانا شروع کر دیا ہے، اور اس عمل میں صرف ہتھیار ہی نہیں بلکہ سیکورٹی اور انتظامی حکمت عملی بھی درآمد کی جا رہی ہے۔
نومبر 2019 ءمیں ایک نجی تقریب میں نیویارک میں تعینات بھارت کے قونصل جنرل، سندیپ چکرورتی نے کہا کہ مقبوضہکشمیر میں اسرائیلی ماڈل اپنانا ضروری ہے۔ اس وقت کشمیر پہلے ہی فوجی لاک ڈاؤن اور رابطے کی بندش سے دوچار تھا۔ مودی کی حکومت نے کشمیری علاقوں کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی اور ہزاروں افراد کو، جن میں سیاسی رہنما بھی شامل تھے، قید کر لیا تھا۔
چکرورتی نے کہا، “یہ مشرق وسطیٰ میں ہو چکا، اگر اسرائیلی کر سکتے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔” آج 6 سال بعد، ان کے الفاظ حقیقت کے قریب ہیں۔ مودی کی حکومت نے اسرائیل کے سیکورٹی اور فوجی ماڈل کے کئی پہلو اپنائے ہیں۔
سب سے نمایاں مثال ہے مودی پارٹی کا ‘بلڈوزر جسٹس’ پالیسی۔ایک دہائی کے دوران بی جے پی کے زیر حکمرانی ریاستوں میں سیکڑوں مسلم مکانات، دکانیں اور کئی مساجد منہدم کی گئی ہیں۔ اکثر اوقات یہ تباہی قانونی نوٹس کے بغیر کی جاتی ہے، اور اکثر مذہبی تنازعات یا مقامی احتجاج کے بعد ہوتی ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ، اتر پردیش کے وزیراعلیٰ، اب اپنے حامیوں میں ‘بلڈوزر بابا’ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ اسرائیل کے عمل کی عکاسی ہے، جہاں فلسطینی مکانات منہدم کیے جاتے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادکاری کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔
اسرائیل کی طرح، بھارت نے بھی جدید اسپائی ویئر، Pegasus، استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جو شہریوں کے فونز کو نگرانی کے آلات میں بدل دیتا ہے۔ بھارتی حکومت نے بھی اس ماڈل کو اپنایا اور اسے اپنے شہریوں پر نافذ کر دیا۔
کشمیر کی صورت حال بھی اسرائیلی زیر قبضہ فلسطینی علاقوں سے ملتی جلتی ہے: فوجی چھاؤنی، نگرانی، اور ہنگامی قانونی اختیارات معمول کی زندگی پر غالب ہیں۔ مودی حکومت کی پالیسیاں بھی یہی پیغام دیتی ہیں کہ کون بھارت میں شامل ہے اور کون باہر۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اسرائیل کے ماڈل کو صرف ہتھیاروں کے لیے نہیں بلکہ ایک گہرے سکیورٹی اور کنٹرول کے نظام کے لیے اپنا رہا ہے، جو شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
بشکریہ: الجزیرہ












