واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سمیت اہم عالمی اور داخلی معاملات پر غور کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں طلب کیا گیا خصوصی کابینہ اجلاس اچانک مؤخر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد سیاسی و سفارتی حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہونا تھا جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عالمی سلامتی، توانائی کے بحران اور امریکا کی داخلی سیاسی حکمتِ عملی پر اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عالمی معاشی دباؤ اور امریکا کی داخلی سلامتی سے متعلق امور زیرِ غور آنے تھے۔ تاہم اچانک اس اجلاس کے التوا نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ حکومتی حکام نے اگرچہ اس فیصلے کی باضابطہ وجہ واضح نہیں کی، لیکن اطلاعات ہیں کہ صدر ٹرمپ اپنی ٹیم کے ساتھ بعض حساس امور پر مزید تیاری اور مشاورت چاہتے ہیں۔
کیمپ ڈیوڈ امریکی صدور کی جانب سے اہم اور حساس نوعیت کے فیصلوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک خصوصی سرکاری رہائش گاہ تصور کی جاتی ہے، جہاں ماضی میں بھی بڑے عالمی معاہدے اور خفیہ مشاورتیں ہوتی رہی ہیں۔ اسی وجہ سے اس اجلاس کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اجلاس کے مؤخر ہونے کا تعلق نہ صرف عالمی حالات بلکہ امریکا کے اندر جاری سیاسی دباؤ اور آئندہ حکمتِ عملی سے بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جا رہا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی انتظامیہ کے اندر مختلف آراء موجود ہیں۔ بعض حکام سفارتی راستہ اختیار کرنے کے حامی ہیں جبکہ دیگر حلقے سخت مؤقف اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ ایسے میں اجلاس کا التوا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ انتظامیہ ابھی کسی حتمی پالیسی پر مکمل اتفاق رائے حاصل نہیں کر سکی۔
دوسری جانب عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں نے بھی اس پیش رفت کو بغور نوٹ کیا ہے۔ توانائی کی قیمتوں، مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور عالمی تجارتی صورتحال پر امریکی پالیسیوں کے ممکنہ اثرات کے باعث دنیا بھر کی نظریں واشنگٹن پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران یا خطے کے دیگر معاملات پر کوئی نئی حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت دونوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ خصوصی اجلاس کب دوبارہ طلب کیا جائے گا، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکی انتظامیہ اس حوالے سے نئی تاریخ اور مشاورتی ایجنڈا جاری کر سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں واشنگٹن کی سفارتی سرگرمیاں عالمی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔












