لاہور(پاک ترک نیوز ) پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں لاہور جم خانہ کی تعمیرات کے منظور شدہ نقشے پیش نہ کیے جانے پر ارکان اسمبلی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تعمیرات کی قانونی حیثیت اور انتہائی کم کرائے پر سوالات اٹھا دیے۔
چیئرمین سمیع اللہ خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں لاہور جم خانہ کی تعمیرات، لیز، کرائے اور ٹیکس ادائیگیوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن افتخار حسین نے سوال اٹھایا کہ عام شہری بغیر منظور شدہ نقشے کے اپنا گھر تعمیر نہیں کر سکتا تو لاہور جم خانہ کی تعمیرات کا منظور شدہ نقشہ اور متعلقہ ریکارڈ کہاں ہے؟
اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر لاہور نے کمیٹی کو بتایا کہ جم خانہ انتظامیہ کے مطابق پانچ ایکڑ اراضی پر تعمیرات کی اجازت حاصل کی گئی تھی، تاہم میونسپل کارپوریشن نے جم خانہ کی تعمیرات کی منظوری دینے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سمیع اللہ خان نے واضح کیا کہ تعمیرات کی اجازت اور عمارت کا منظور شدہ نقشہ دو الگ معاملات ہیں، اس لیے متعلقہ دستاویزات کی فراہمی ضروری ہے۔
اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل نے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لیز کی شرائط کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں لیز منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔
خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں لاہور جم خانہ کے سالانہ منافع اور ٹیکس ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات طلب کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔
دوسری جانب جم خانہ کمیٹی کے رکن سلمان صدیق نے بتایا کہ لاہور جم خانہ نے رواں سال 19 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا ہے۔
سلمان صدیق نے اعتراف کیا کہ جم خانہ کا پانچ ہزار روپے کرایہ ان کے لیے بھی حیران کن تھا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ کرایہ چند لاکھ روپے ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی جم خانہ کا کرایہ بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہے تو انتظامیہ اضافی کرایہ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اجلاس میں لاہور جم خانہ کی تعمیرات کے قانونی ریکارڈ، لیز کی شرائط اور موجودہ کرائے کے معاملے پر اہم سوالات سامنے آئے، جبکہ کمیٹی نے متعلقہ امور کا جائزہ جاری رکھا۔












