مظفرآباد(پاک ترک نیوز ) آزاد کشمیر میں حکومت سازی سے قبل مسلم لیگ (ن) کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے، بیرسٹر افتخار گیلانی کو قائد ایوان اور متوقع وزیراعظم نامزد کیے جانے پر پارٹی کے اہم رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کردیا۔
ذرائع کے مطابق ٹیکنوکریٹ نشست پر کامیاب ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو قائد ایوان نامزد کرنے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں مشاورت جاری ہے۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر سے ملاقات کے لیے بنی گالا پہنچ گئے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی، پارٹی حکمت عملی اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی، جبکہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی بطور قائد ایوان نامزدگی کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے لیے 3 نام شارٹ لسٹ
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کے نئے قائد ایوان کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اجلاس میں شاہ غلام قادر، راجہ محمد فاروق حیدر، رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق، چوہدری طارق فاروق اور احمد رضا قادری بھی شریک تھے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی پر شاہ غلام قادر اور راجہ محمد فاروق حیدر نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
شاہ غلام قادر نے وزیراعظم شہباز شریف سے مبینہ طور پر کہا کہ قائد ایوان کے لیے پارٹی کے کسی منتخب رکن کو نامزد کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق شاہ غلام قادر کا مؤقف تھا کہ گزشتہ دو انتخابات مسلسل ہارنے کے باوجود ٹیکنوکریٹ کی نشست پر کامیاب ہونے والے رکن کو وزیراعظم کے لیے نامزد کرنا پارٹی کی توہین ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ شاہ غلام قادر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو ووٹ نہ دینے اور اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب بعض پارٹی ارکان کی جانب سے شاہ غلام قادر کو مرکزی قیادت کا فیصلہ تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔












