کراچی ( پاک ترک نیوز) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ میر رضا کیس میں جس کی بھی کوتاہی ثابت ہوئی، اسے سزا دی جائے گی۔ سندھ کابینہ کے فیصلے کے تحت جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، جس کی رپورٹ گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئی۔شرجیل انعام میمن کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے تین سینئر وزراء پر مشتمل کمیٹی قائم کردی ہے، جس میں ضیاء الحسن لنجار، سعید غنی اور ناصر شاہ شامل ہیں۔ کمیٹی رپورٹ کا مطالعہ کرکے کابینہ کو آگاہ کرے گی، جبکہ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی ایک فرد کی غلطی کو پورے محکمے کی غلطی قرار دینا مناسب نہیں۔ سندھ پولیس نے ماضی میں بڑے بڑے مقدمات حل کیے ہیں۔ کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری جیسے واقعات پیش آتے رہے ہیں، تاہم ایسے واقعات صرف کراچی نہیں بلکہ پاکستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں بھی ہوتے ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ شفاف تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کو سزا دلوائے۔ میر رضا کیس پولیس کے لیے بھی سبق ہے کہ آئندہ عجلت سے کام لینے کے بجائے مکمل تحقیقات کی جائیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں اورنج لائن کا منصوبہ تیار ہے، جبکہ ریڈ لائن منصوبے میں یونیورسٹی روڈ پر کام ایک بڑا چیلنج تھا۔ اب وہاں کام کے حوالے سے مشکلات میں کمی آئی ہے، تاہم تجاوزات کے مسائل موجود ہیں۔ ریڈ لائن کا مشکل مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور اب اسٹیشنز اور ڈپو تعمیر کیے جانے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یلو لائن منصوبے پر کام شروع ہونا ہے، جبکہ جام صادق پل کا دوسرا حصہ بھی جلد مکمل ہوجائے گا۔ یلو لائن پر کام کے دوران ٹریفک کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جس پر انہوں نے شہریوں سے پیشگی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال کی زحمت کے بعد شہریوں کو طویل عرصے کے لیے سفری سہولت میسر ہوگی۔شرجیل میمن کے مطابق بی آر ٹی لائنوں کے ذریعے کراچی کے مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑا جائے گا۔ گرین لائن وفاقی حکومت کا منصوبہ تھا، جسے سندھ حکومت کے حوالے کیے جانے کے بعد اس پر سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اورنج، ریڈ اور یلو لائن سندھ حکومت کے منصوبے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نومبر میں بڑی تعداد میں ڈبل ڈیکر بسیں کراچی پہنچ رہی ہیں۔ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں شہر کا ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ خواتین کے لیے پنک بسیں چلائی جا رہی ہیں اور انہیں مفت پنک اسکوٹیز بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک سال قبل پورے سندھ میں صرف 125 خواتین کے پاس موٹر سائیکل چلانے کے لائسنس تھے، جبکہ اب 50 ہزار خواتین لائسنس کے لیے درخواستیں دے چکی ہیں اور 25 ہزار سے زائد خواتین کو لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ شاہراہِ بھٹو ایک جدید اور معیاری منصوبہ ہے، جبکہ کراچی پورٹ سے کورنگی تک سڑک بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔شرجیل انعام میمن کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ناردرن بائی پاس کے قریب ٹرک اسٹینڈ تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ پانی کو صاف کرکے قابلِ استعمال بنانے کا منصوبہ بھی شروع ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈر 19 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2027 کا شیڈول جاری، پاکستان گروپ بی میں شامل
کراچی میں صفائی کی صورت حال سے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کا صفائی کا مسئلہ تقریباً 95 فیصد حل ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ایک بڑا شہر ہے اور حالات کو مزید بہتر بنانے میں کچھ وقت لگے گا۔












