یمن : (پاک ترک نیوز) — یمن کی جنوبی علیحدگی پسند تحریک سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے شمالی یمن سے علیحدگی کے لیے آئندہ دو برس میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایسے وقت میں جب سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں جن پر علیحدگی پسندوں نے گزشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔
جمعہ کے روز سعودی عرب سے ملحقہ صوبے حضرموت میں جھڑپیں شروع ہو گئیں، جہاں سعودی حمایت یافتہ گورنر کی وفادار فورسز اور STC کے جنگجو آمنے سامنے آ گئے۔ STC نے الزام لگایا ہے کہ سعودی عرب نے سرحد کے قریب ان کی فورسز پر بمباری کی۔
STC کے مقامی رہنما محمد عبد المالک کے مطابق، علاقے الخشاء میں ایک کیمپ پر ہونے والے سات فضائی حملوں کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔تاہم حضرموت کے گورنر سالم الخنبشی نے کہا کہ STC سے فوجی اڈے واپس لینے کی کارروائیاں پرامن اور منظم انداز میں کی جا رہی ہیں اور اس کا مقصد جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ سکیورٹی اور نظم و ضبط بحال کرنا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق سعودی سرحد کے قریب STC کے زیرِکنٹرول علاقوں میں لڑائی کی اطلاعات ہیں، تاہم تازہ معلومات کے مطابق علیحدگی پسند فورسز اب بھی اپنی پوزیشنز پر قابض ہیں۔
ادھر سعودی عرب نے ہفتے کے روز تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی یمن کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے ایک جامع مذاکراتی فورم میں شرکت کریں۔
یہ اجلاس سعودی حمایت یافتہ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔جھڑپوں کے چند گھنٹے بعد STC نے باضابطہ طور پر دو سالہ عبوری دور کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے آزاد ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کا عندیہ دیا۔
STC کے صدر عیدروس الزبیدی نے قوم سے خطاب میں کہا:ہم دو سالہ عبوری مرحلے کا اعلان کرتے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شمال اور جنوب کے فریقین کے درمیان مذاکرات کی سرپرستی کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات نہ ہوئے یا جنوبی یمن پر دوبارہ حملے کیے گئے تو آزادی کا اعلان فوری کر دیا جائے گا۔تجزیہ کاروں کے مطابق STC کا یہ اعلان نہ صرف یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت بلکہ شمالی یمن پر قابض حوثی تحریک کے لیے بھی ایک ریڈ لائن ہے، کیونکہ یہ یمن کے 26 سالہ اتحاد کے خاتمے کی طرف قدم ہے۔
سعودی عرب اور یمن کی حکومت نے متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا ہے کہ وہ STC کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور جنوبی صوبوں میں اس کی پیش قدمی کی پشت پناہی کر رہا ہے، جسے ریاض اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
تاہم یو اے ای نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سعودی سلامتی کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔یو اے ای نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ اس کے تمام فوجی یمن سے واپس جا چکے ہیں اور اب وہ صرف مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے عمل کی حمایت کرے گا۔یاد رہے کہ سعودی عرب، یو اے ای اور STC، تینوں ایک ہی اتحاد کا حصہ تھے جو ایک دہائی قبل حوثیوں کے خلاف تشکیل دیا گیا تھا، تاہم STC کی علیحدگی پسند پالیسیوں نے اس اتحاد میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔












