واشنگٹن:(پاک ترک نیوز)14 دسمبر 1972 کو انسان نے آخری بار چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا۔ ناسا کے مشہور اپالو 17 مشن کے خلاباز جین سرنان اور ہیریسن شمٹ وہ اب تک کے آخری انسان تھے، جنہوں نے چاند پر آخری بات چہل قدمی کی۔
اس دن کے بعد نصف صدی سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، مگر انسانی قدم دوبارہ چاند کی مٹی کو اپنے قدموں سے نہیں چھو سکے۔ یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ جب انسان 1969 میں چاند پر پہنچنے کی صلاحیت رکھتا تھا تو پھر 1972 کے بعد اتنا طویل وقفہ کیوں آیا؟
برطانوی سائنسی جریدے رائل میوزیم گرین وچ کے مطابق چاند پر انسانی مشن رک جانے کی سب سے بنیادی وجہ یہ رہی کہ1970 کی دہائی کے آغاز تک امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دور میں خلائی برتری کی دوڑ زوروں پر تھی۔ چاند پر قدم رکھنا صرف ایک سائنسی کامیابی ہی نہیں تھا بلکہ عالمی سیاست میں برتری کا اعلان بھی تھا۔
جیسے ہی امریکہ اس دوڑ میں کامیاب ہوا، سیاسی ضرورت نے اپنا زور کھو دیا۔ حکومتوں نے یہ سمجھا کہ چاند پر دوبارہ جانے سے اس طرح کی کوئی اضافی سیاسی یا اسٹریٹجک جیت حاصل نہیں ہوگی، لہٰذا اس مہنگے منصوبے کو جاری رکھنے کی وجہ باقی نہ رہی۔
چاند پر انسان بھیجنے کے اخراجات بے پناہ تھے۔ اپالو پروگرام پرآج کے حساب سے تقریباً دو سو ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اتنی خطیر رقم کے بعد امریکی حکومت نے اپنے بجٹ کو دیگر مسائل کی طرف موڑ دیا۔
اب نصف صدی بعد دنیا ایک نئی خلائی دوڑ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ امریکہ کا آرٹیمس پروگرام، چین اور روس کے مشترکہ منصوبے، بھارت کی بڑھتی ہوئی خلائی کامیابیاں، یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ چاند ایک بار پھر انسانی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے۔
آرٹیمس پروگرام کے تحت آنے والے چند برسوں میں انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور اس بار نہ صرف واپسی کا سفر ہو گا بلکہ چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی، نئی سیاسی ضروریات اور خلا کی بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت چاند کو پھر ایک ترجیح بنا رہی ہیں۔












