واشنگٹن: (پاک ترک نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگراحتجاج کے دوران مزید مظاہرین کو ہلاک کیا گیا تو امریکا ایران کو “انتہائی سخت جواب” دے گا۔
خیال رہے یہ مظاہرے مسلسل دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں اور ایران کو حالیہ برسوں کی شدید ترین اندرونی بدامنی کا سامنا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال جاری رکھا تو امریکی ردعمل نہایت سخت ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا:“اگر وہ مظاہرین کو قتل کرتے ہیں، اگر مزید مظاہرین مارے گئے تو ہم جواب دیں گے اور ایران کو بہت سخت مار پڑے گی۔”
انہوں نے اس صورتحال کو ایرانی حکومت کے انسانی حقوق اور عوامی خواہشات کے احترام کے ایک بڑے امتحان سے تعبیر کیا۔یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے مختلف شہروں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، جن کی وجہ شدید معاشی مشکلات، بدعنوانی اور سیاسی جبر کے خلاف عوامی غصہ بتایا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرین حکومتی نظام کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور زیادہ آزادیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے سخت کارروائیاں کی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن ذرائع کے مطابق مظاہروں کے دوران ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئی ہیں، تاہم میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندیوں کے باعث ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی درست تعداد کی تصدیق مشکل ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام مظاہرین کو “شرپسند” یا غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ قرار دیتے رہے ہیں، جو کہ ماضی میں بھی احتجاجی تحریکوں کے دوران اختیار کیا جانے والا سرکاری مؤقف رہا ہے۔












