لاہور( پاک ترک نیوز) وہ صبح جلدی اٹھتا ہے۔۔۔ نوکری کی ویب سائٹس کھولتا ہے۔۔۔ درجنوں درخواستیں بھیجتا ہے۔۔۔ شام تک ایک بھی جواب نہیں آتا۔۔۔ یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں، بلکہ لاکھوں پاکستانی نوجوانوں کی حقیقت ہے۔ سوال صرف بے روزگاری کا نہیں، بلکہ ایک ایسی بے یقینی کا ہے جو نوجوانوں کے خواب، اعتماد اور مستقبل کو آہستہ آہستہ نگل رہی ہے۔
پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت سمجھے جاتے ہیں، مگر جب یہی طاقت مواقع سے محروم ہو جائے تو وہی طاقت ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔
آج کا نوجوان صرف نوکری نہیں ڈھونڈ رہا۔۔۔ وہ ایک محفوظ مستقبل، باعزت آمدنی اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق مقام تلاش کر رہا ہے۔ مگر اسے اکثر ملتی ہے تو صرف لمبی قطاریں، محدود مواقع اور سخت مقابلہ۔
یہ بھی پڑھیں: 50سال میں کتنے پاکستانی بیرون ملک گئے؟
ایک طرف یونیورسٹیوں سے ہر سال ہزاروں گریجویٹس نکلتے ہیں، دوسری طرف روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو رہے۔ نتیجہ یہ کہ ڈگری رکھنے والا نوجوان بھی مہینوں بلکہ برسوں تک ملازمت کا منتظر رہتا ہے۔
صرف بے روزگاری ہی مسئلہ نہیں۔۔۔ مہنگائی نے بھی نوجوان کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ تنخواہیں محدود ہیں، جبکہ گھر کا خرچ، کرایہ، ٹرانسپورٹ، بجلی، انٹرنیٹ اور دیگر اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں مالی آزادی کا خواب مزید دور ہوتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی ایک نئی دوڑ پیدا کر دی ہے۔ ہر طرف کامیابی، لگژری زندگی اور تیزی سے امیر ہونے کی کہانیاں نظر آتی ہیں۔ نوجوان اپنی حقیقت کا موازنہ دوسروں کی نمایاں کامیابیوں سے کرتا ہے، جس سے احساسِ محرومی، ذہنی دباؤ اور مایوسی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بہت سے نوجوان روایتی ملازمت کے بجائے فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت، ای کامرس اور کانٹینٹ کریئیشن کی طرف بھی جا رہے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوجوان مواقع تلاش کرنا چاہتے ہیں، مگر انہیں بہتر تربیت، رہنمائی اور مستحکم پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ہنر، آسان کاروباری قرضے اور میرٹ پر روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان پاکستان کی معیشت کو نئی رفتار دے سکتے ہیں۔ لیکن اگر مسائل برقرار رہے تو ملک کو ہنر مند افرادی قوت کی بیرونِ ملک منتقلی، یعنی "برین ڈرین”، جیسے چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کا نوجوان ہارنا نہیں چاہتا۔۔۔ وہ صرف ایک موقع چاہتا ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں اس کی ڈگری کی قدر ہو، اس کی محنت کا صلہ ملے اور اس کے خواب صرف خواب نہ رہیں۔ کیونکہ جب نوجوان مضبوط ہوگا تو معیشت مضبوط ہوگی، اور جب نوجوان مایوس ہوگا تو قوم کی رفتار بھی سست پڑ جائے گی۔
آخر سوال یہی ہے۔۔۔ پاکستان کے نوجوان کو ہمدردی چاہیے یا مواقع؟ وعدے چاہییں یا روزگار؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب مستقبل کا پاکستان طے کرے گا۔












