
از: سہیل شہریار
زمانہ قدیم سے انسان کی سونے سے محبت قائم ہے۔ اور اس دھات کی ذخیرہ شدہ مقدار افراد اور اقوام کی امارت و غربت کا معیار رہی ہے۔اگرچہ اسلام کا نظام معیشت اسکی نفی کرتا ہے۔ مگر عمومی طور پر دنیا کے معاشی نظام میں سونا مرکزی کردار کا حامل رہا ہے۔اور آج 21ویں صدی میں بھی یہ دھات ایک سے زیادہ صورتوں میں اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
جدید معاشی نظام میںمرکزی بینک بلند افراط زر کے خلاف بند باندھنے، امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے، مختلف پابندیوں سے اپنے اثاثوں کو بچانے اور جغرافیائی سیاسی تناؤ سے اثاثوں کو لاحق خطرات کو کم کرنے کے لیے سونے کے ذخائر جمع کر رہے ہیں۔
جدید مالیاتی تصورات میں سونے کے اس ریکارڈ سطح تک جمع کئے جانے کا مقصد ذخائر کو فیاٹ کرنسیوں سے دور رکھنا اور معاشی خودمختاری کو مضبوط بنانا ہے۔جبکہ سونا جمع کرنے کی اہم وجوہات میںجیو پولیٹیکل رسک اور ڈی ڈالرائزیشن بھی نمایاںہیں۔
2022 میں روس ۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعدامریکہ اور یورپ میں روسی اثاثوں کے منجمد ہونے کے بعد بہت سی قومیں غیر ملکی زرمبادلہ سے بچنے کے لیےسونے کے ذخائر کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ان میں برکس ممالک خصوصاًچین اور بھارت جارحانہ طور پر تنوع پیدا کر رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سونے کو افراط زر کے خلاف محفوظ پناہ گاہ اور ایک پائیدار، طویل مدتی قیمت کے اثر سے مبرا ذخیرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بڑھتی ہوئی افراط زر اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران قوت خرید کو محفوظ رکھتا ہے۔جبکہ یہ مرکزی بنکوں کو اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیےتنوع بھی فراہم کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی کرنسی میں کمی کے خطرے سے بچاؤ کی راہ فراہم کرتا ہے۔
اسی لئے آج معاشی بحران، جغرافیائی وسیاسی تناؤ اور افراط زر کی زد میں آنے والی دنیا میں سونے کے قومی ذخائر ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ کرنسی کی ساکھ کو تقویت دیتے ہیں، مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے خلاف حفاظت کرتے ہیں اور بحران کے وقت ضمانت کے طور پر کام کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میںپیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال برقرار ہنے کی وجہ سے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے اس قیمتی دھات کو ذخیرہ کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ جس سے سونا ایک بار پھر ایک اہم جیو اکنامک اعشاریہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔
ٹریڈنگ اکنامکس کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 2026کے آغاز تک دنیا میں سب سے زیادہ 8,100 ٹن سونے کے ذخائر رکھنے والا ملک امریکہ ہے۔ اور یہ ذخیرہ، بنیادی طور پر امریکی زرمبادلہ کے تقریباً 75 فیصد ذخائر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور ساتھ ہی دنیا کے ڈالرپر اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ایک طویل مدتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے بعد جرمنی 3,350 ٹن کے ساتھ دوسرے اور اٹلی2,452 ٹن کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ جبکہ2,437 ٹنکے ساتھ فرانس کا چوتھا اور2,327ٹن کے ساتھ روس سونے کا دنیا کا پانچواں بڑا ذخیرہ رکھتا ہے۔
آج امریکہ اور یورپ کے متضاد ایشیا میں سونا ذخیرہ کرنے کے ضمن میںتیز رفتار ترقی ہو رہی ہے۔ چین نے 2020 سے اپنے سونے کے ذخائر کو کافی حد تک بڑھایا ہے۔ اور صرف پانچ سالوں میں ان میں تقریباً 350 ٹن کا اضافہ کیا ہے۔ اور 2026آغاز پر2,306 ٹن ذخیرے کے ساتھ دنیا میں چھٹے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔جبکہ بھارت، چین کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سونے کا صارف ہےاور اس نے بھی 2020 سے آج تک اپنے سونے کے ذخائر میں 200 ٹن سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ جس سے اس کا سونے کا کل ذخیرہ تقریباً 900 ٹن ہو گیا ہے۔اور وہ جاپان سے آگے نکل کر ساتوں نمبر پر آگیا ہے۔












