تہران ( پاک ترک نیوز) ناظرین ذرا تصور کریں اگر ایٹمی تنصیبات پر میزائل حملے یا بمباری ہو تو کیا صرف ایک ملک کا نقصان ہو گا یا پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی خبریں عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ حملے صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ممکنہ عالمی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
ایٹمی تنصیبات عام فوجی اڈے نہیں ہوتے یہاں یورینیم اور خطرناک تابکار مواد ہوتا ہے ، اگر ان پر حملہ ہو جائے تو صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
اگر کسی ایٹمی پلانٹ کو نقصان پہنچتا ہے تو تابکاری فضا میں پھیل سکتی ہے۔لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں ،کینسر، پیدائشی نقائص اور مہلک بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔،زراعت، پانی اور فضا برسوں تک آلودہ ہو سکتی ہے،پورے خطے کو خالی کروانا پڑ سکتا ہے
ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر کو خط لکھ کر خطرے سے آگاہ کر دیا ہے کہ حملے کسی فعال جوہری ری ایکٹر سے تابکاری مواد کے اخراج کا سبب بن سکتے ہیں ۔تابکاری مواد کا اخراج انسانوں،ماحول اور پڑوسی ممالک پر اثرات مرتب کر سکتا ہے،یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
امریکا اور ایران کے حملوں سے اگر ایران کی بڑی تنصیبات کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور حتیٰ کہ یورپ تک پہنچ سکتے ہیں۔
کیا یہ جنگ ایٹمی جنگ بن سکتی ہے؟یہی سب سے خطرناک سوال ہے۔ اگر ایران نے ردعمل میں سخت قدم اٹھایا تو تنازع بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہےایسی جنگ جس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال خارج از امکان نہیں۔
دنیا کو کیا کرنا چاہیے؟کیا عالمی طاقتیں خاموش رہیں؟ماہرین کا کہنا ہے کہ خاموشی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کو فوری مداخلت کرنی چاہیےجنگ بندی اور سفارتی حل تلاش کرنا ہوگا۔ایٹمی تنصیبات کو عالمی قوانین کے تحت محفوظ بنایا جائے۔
ناظرین! ایٹمی تنصیبات پر حملہ صرف ایک ملک پر حملہ نہیں ہوتا بلکہ انسانیت پر حملہ ہوتا ہے۔












