لاہور( پاک ترک نیوز) انسانی تہذیب کو زمین سے باہر نئی دنیا تک پہنچانے کے لیے ایک حیران کن خلائی منصوبہ سامنے آیا ہے۔ ’’کرائسلس‘‘ نامی 58 کلومیٹر طویل خلائی جہاز کے تصور نے 2025 کے بین الاقوامی پروجیکٹ ہائپرین ڈیزائن مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔
اس منصوبے کے تحت تقریباً 2 ہزار 400 افراد ایسے خلائی جہاز میں سفر کریں گے جو تقریباً 400 سال تک خلا میں رہے گا۔ اس دوران کئی نسلیں جہاز ہی میں پیدا ہوں گی، جوان ہوں گی اور اپنی زندگی گزاریں گی، جبکہ ان کی اگلی نسلیں منزل تک پہنچیں گی۔
یہ محض ایک خلائی جہاز کا تصور نہیں بلکہ مکمل خلائی تہذیب کا منصوبہ ہے۔کرائسلس میں مصنوعی کشش ثقل، رہائشی علاقے، کھیت، فیکٹریاں، اسکول، اسپتال، لائبریریاں، پارکس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹک نظام شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔خلائی جہاز کے رہائشی حصے گھومتے ہوئے ڈیزائن کیے جائیں گے تاکہ مصنوعی کشش ثقل پیدا کی جاسکے اور نسلوں کو مسلسل بے وزنی کے نقصانات سے بچایا جاسکے۔
منصوبے کے مطابق جہاز میں خوراک پیدا کرنے کے لیے فصلیں، پھپھوندی، جراثیم، کیڑے مکوڑے اور مویشی پالنے کے نظام شامل ہوں گے، جبکہ مختلف ماحولیاتی نظام بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ حیاتیاتی تنوع برقرار رکھا جاسکے۔کرائسلس کے لیے جوہری فیوژن پر مبنی انجن کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس میں ہیلیم تھری اور ڈیوٹیریم کو بطور ایندھن استعمال کیا جائے گا۔ تاہم ماہرین کے مطابق فیوژن راکٹ ابھی عملی طور پر تیار نہیں ہوا، اس لیے یہ منصوبہ فی الحال ایک نظری اور تحقیقی تصور ہے۔
اس منصوبے کا ایک اہم اور پیچیدہ پہلو انسانی آبادی کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ تقریباً 2 ہزار 400 افراد کی گنجائش کے باوجود آبادی کو تقریباً 1 ہزار 500 افراد کے قریب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔نسلوں کے درمیان آبادی، خوراک، رہائش، جینیاتی تنوع اور وسائل میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بچوں کی پیدائش کو باقاعدہ نظام کے تحت رکھنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔یہاں سے خلائی انجینئرنگ ایک بڑے سماجی اور اخلاقی سوال میں تبدیل ہوجاتی ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایسے قوانین کا پابند کیسے رکھا جائے گا جنہیں انہوں نے خود کبھی منتخب ہی نہیں کیا۔منصوبے میں حکومت، تعلیم، صحت، ثقافتی روایات اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلہ سازی کے نظام بھی شامل ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر زمین سے رابطہ ختم ہوجائے تو صدیوں بعد جہاز کے رہائشی اپنے نظام حکومت یا مشن کو تبدیل کرنے کا حق کیسے استعمال کریں گے۔
کرائسلس کے ڈیزائنرز نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ پہلے مسافر روانگی سے قبل کئی دہائیوں تک زمین پر ایک الگ اور خود کفیل ماحول میں زندگی گزار کر اس طویل سفر کے لیے ذہنی اور سماجی طور پر تیار ہوں۔منصوبے کی ممکنہ منزل پروکسیما سینٹوری بی کو قرار دیا گیا ہے، جو زمین سے تقریباً 4.24 نوری سال دور ہے۔ تاہم اس سیارے کی حقیقی رہائش پذیری ابھی ثابت نہیں ہوئی۔سائنس دانوں کے مطابق پروکسیما سینٹوری ایک فعال سرخ بونا ستارہ ہے، جہاں شدید شعاعیں اور شمسی سرگرمیاں ممکنہ طور پر سیارے کے ماحول کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ کرائسلس نامی یہ خلائی جہاز حقیقت میں تعمیر نہیں ہورہا۔ یہ 2025 کے پروجیکٹ ہائپرین ڈیزائن مقابلے کا ایک تصوراتی منصوبہ ہے۔
اس منصوبے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر انسانوں کو ایسی دنیا کی طرف بھیجا جائے جہاں زمین سے کوئی مدد نہیں پہنچ سکتی، تو انہیں صرف راکٹ نہیں بلکہ ایک مکمل خود کفیل تہذیب اپنے ساتھ لے کر جانا ہوگی۔اور شاید اس منصوبے کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: کیا انسان اپنی اگلی نسلوں کو زمین سے 400 سال دور ایک ایسی دنیا تک پہنچا سکتا ہے جسے انہوں نے خود کبھی دیکھا ہی نہیں؟







