واشنگٹن (پاک ترک نیوز ) امریکی فضائیہ کے ایم کیو نائن اے رہبر ڈرونز کا بیڑا کم ہو کر تقریباً 135 طیاروں رہ گیا ہے، جبکہ ان ڈرونز کی نئی پیداوار کا پروڈکشن لائن بھی بند ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مزید ڈرون جنگی کارروائیوں یا حادثات میں ضائع ہوتے ہیں تو ان کی فوری جگہ نئے طیارے لانا مشکل ہوگا۔
کانگریشنل ریسرچ سروس یعنی CRS کی 23 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کے پاس موجود MQ-9A ریپرز کی تعداد مالی سال 2022 میں رپورٹ کیے گئے 351 طیاروں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔
فضائیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً 135 ریپر ڈرونز اب بھی دنیا بھر میں 56 جنگی لائنز کو سپورٹ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تاہم ایک جنگی لائن کو مسلسل نگرانی اور آپریشنز جاری رکھنے کے لیے ایک سے زیادہ طیاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ موجودہ بیڑے میں آپریشنز کے ساتھ ساتھ مرمت، تربیت اور ہنگامی حالات میں اضافی طیاروں کے لیے گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔
CRS کے مطابق ڈرونز کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ پرانے MQ-9A ماڈلز کو مرحلہ وار سروس سے نکالنا ہے، جبکہ بعض طیارے حادثات اور جنگی کارروائیوں میں بھی ضائع ہوئے ہیں۔
سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ MQ-9A کی پروڈکشن لائن فی الحال بند ہے۔ جنرل ایٹمکس کے ایک عہدیدار نے CRS کو بتایا کہ اگر پروڈکشن دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو اس میں تقریباً دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔
یعنی اگر مستقبل قریب میں مزید ریپر ڈرونز ضائع ہوتے ہیں تو امریکی فضائیہ فوری طور پر نئے طیارے حاصل کرکے خلا پورا نہیں کر سکے گی۔
صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ امریکی فضائیہ نے اپنے مالی سال 2027 کے بجٹ میں نئے MQ-9A ریپرز کے لیے فنڈنگ کی درخواست نہیں کی۔ تاہم امریکی بحریہ نے میرین کور کے لیے پانچ MQ-9 طیاروں کی درخواست کی ہے۔
ریپر ڈرون اب بھی امریکی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ CRS کے مطابق فضائیہ نے آپریشن ایپک فیوری کے دوران ضائع ہونے والے MQ-9A طیاروں کی حتمی تعداد باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی۔
مئی 2026 میں کانگریس میں بیان دیتے ہوئے امریکی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل کینتھ وِلس باخ نے MQ-9A کو اس آپریشن کا ممکنہ طور پر سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ قرار دیا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم ہوتی تعداد کے باوجود ریپر اب بھی مسلسل نگرانی، انٹیلی جنس اور حملوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
MQ-9A ریپر کی طاقت اس کی طویل پرواز اور مسلسل نگرانی کی صلاحیت ہے۔ یہ ڈرون تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے اور اس کی رینج تقریباً ایک ہزار ناٹیکل میل بتائی جاتی ہے۔
اس میں جدید سینسرز نصب ہیں جو دن اور رات دونوں اوقات میں اہداف کی نگرانی کرسکتے ہیں۔ اس کے ملٹی اسپیکٹرل ٹارگٹنگ سسٹم میں انفراریڈ اور ڈے لائٹ کیمرے، شارٹ ویو انفراریڈ امیجنگ اور لیزر ٹارگٹنگ کی صلاحیت شامل ہے۔












