منگل , 15 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

امریکی فیڈرل ریزرو دنیا کے سونے کے ذخائر کے لئے محفوظ نہیں رہا

5 مہینے پہلے
A A
US Fed no more a secure wallet for World's Gold
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار
دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کی متنوع اقتصادی و مالیاتی مشکلات میں سے ایک دنیا بھر کے ملکوں کی جانب سےاپنے زرمبادلہ کے ذخائر کی ڈالر سے سونے کی جانب منتقلی کےساتھ امریکہ کے فیڈرل ریزرو میںاپنے سونے کے جمع شدہ ذخائر کی بتدریج اپنے ملکوں کو منتقلی بھی ہے۔
عالمی مالیاتی نظام سے وابستہ ماہرین اقتصادیات کی مختلف بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کل کی طرح آج بھی سونا دنیا بھر کے ملکوںکے سب سے اہم اثاثوں میں سے ایک ہے کیونکہ جغرافیائی سیاسی مشکلات کی صورت میں یہ انھیں بینکوں اور کمپنیوں کے لیے آخری سہارا فراہم کرنے اور زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں مداخلت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اسی لئےامریکہ کا فیڈرل ریزرو نصف صدی سے زائد عرصے سے اس قدر اہم اثاثے کا سب سے قابلِ اعتماد محافظ سمجھا جاتا تھا۔ خصوصاً یورپی ممالک کے لیے جو سوویت یونین کی طاقت سےخوف زدہ تھے۔


مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کے تبدیل شدہ حالات میں یورپی حکومتوں نےامریکہ میں محفوظ اپنے سونے کو بتدریج واپس لانے کے لئے اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔اس حوالے سے امریکی صدر کی بین الاقوامی وعدوں سے لاتعلقی اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ اختلافات جیسے محصولات، ڈنمارکی خودمختاری کو پامال کرتے ہوئے گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش، اور حالیہ دنوں میں صیہونیوں کے ایما پرایران کے خلاف جنگ نے امریکہ میں محفوظ یورپی سونے کی سلامتی کے بارے میں خدشات کودو چند کر دیا ہے۔
سونا ہمیشہ سےہی سیاسی و معاشی تغیرات کے نتیجے میں سرمائے کی قدر میں کمی کے مقابلے میں ایک محفوظ ا ثاثہ سمجھا گیا ہے۔ اسی لیے یہ قیمتی دھات دنیا بھر میں انفرادی ،قومی اور بین الاقوامی سطح پر آمدنیوں اور سرمائے کو محفوظ کرنے کا اہم ذریعہ رہا ہے۔امریکہ کا فیڈرل ریزرو نیویارک کی لبرٹی سٹریٹ پر واقع اپنے ہیڈکوارٹر کے زیرِ زمین تہہ خانے میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں، حکومتوں اور اداروں کی ملکیت کی پانچ لاکھ سے زیادہ سونے کی سلاخیں محفوظ رکھتا ہے۔دنیا کا یہ بڑاسونے کا ذخیرہ تقریباً 6,300 ٹن سونے کی سلاخوں اور اینٹوںپر مشتمل ہے جن کی مالیت100کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔
دنیا میں سونے کے ذخائر رکھنے والے تین بڑے ملک چین، روس اور بھارت اپنے سونے کے بڑھتے ہوئے ذخائر کو اپنے ہی ملکوں میں محفوظ رکھتے ہیں ۔اسکے برعکس مغربی ملکوں کی اکثریت کے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ امریکی ریزرو میں پڑا ہے ۔ یہیورپی سونا وہاں 1950 کی دہائی سے جمع ہونا شروع ہوا۔ جب سرد جنگ کے دور میں سوویت خطرے کے پیشِ نظر امریکی نگرانی سب سے بڑی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ یہیورپی ملکوں کے لیے یوں بھی فائدہ مند تھا کہ امریکی فیڈرل ریزرو سونے کےان ذخائر کو محفوظ رکھنے کا کوئی معاوضہ نہیں لیتا۔
تاہم صدر ٹرمپ کے دوسرے دور کی تشویش ناک پالیسیوںنے صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں صدر ٹرمپ یورپ کوایران جنگ میں مدد و حمایت نہ کرنے پر دھمکیاں دے رہے ہیں۔ تو ایسے میں جرمنی جو امریکہ کے بعد سونے کے دوسرے سب سے بڑے ذخائر رکھتا ہے۔ وہ ممکنہ خطرات کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ جرمنی کے مرکزی بنک ڈوئچے بنڈیس بنک کا خیال ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر اتنا زیادہ سونا امریکہ میں رکھنا خطرناک لگتا ہے۔چنانچہ جرمن مرکزی بینک نے امریکہ سے اپنے 12سو ٹن سونے کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے جس کی مالیت تقریباً 200 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔
جرمنی واحد یورپی ملک نہیں ہے جس کا سونا نیویارک میں محفوظ ہے۔اٹلی،سویڈن ۔ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ کو بھی ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جن کےامریکی فیڈرل ریزرو میں بڑی مقدار میں ذخائر ہیں۔


کچھ ممالک نے ماضی میں سونے کی واپسی کا عمل شروع بھی کیا۔1960 کی دہائی میں، فرانس کے صدر ڈیگال نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک کے سونے کے ذخائر امریکہ سے واپس لے آئیں جو فیڈ رل ریزرومیں محفوظ تھے۔اور اس فیصلے کی بدولت فرانس 1971 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کے ڈالر کی سونے میں تبدیلی کی سہولت ختم کر نے کے اقدام کے منفی اثرات سے محفوظ رہا۔جبکہ دیگر ملکوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔اب گذشتہ دہائی میںہالینڈ نے 2014 میں فیڈ میں محفوظ اپنی ذخائر کا تناسب 51 فیصد سے کم کر کے 31 فیصد کر دیا۔
فیڈرل ریزرو کے اعداد و شمار کے مطابق نیویارک کی اس تجوری میں محفوظ بین الاقوامی سونے کے ذخائر کا حجم 1973 سے مسلسل کمی کا شکار ہے۔ جب وہاں 12,000 ٹن سے زیادہ سونا موجود تھا۔جو اب کم ہوتے ہوئے چھ ہزار ٹن سے کچھ زیادہ رہ گیا ہے۔

موضوعات : #usgoldreservers
ShareSend

متعلقہ خبریں

چین نے سمندر کی گہرائی میں سونے اور چاندی کے بڑے ذخائر دریافت کرلیے
تازہ ترین

چین نے سمندر کی گہرائی میں سونے اور چاندی کے بڑے ذخائر دریافت کرلیے

12 ستمبر , 2026
Slight increase in gold and silver prices.
تازہ ترین

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ

12 ستمبر , 2026
New conditions for Ghana's gold exporters
تازہ ترین

گھانا کی سونے کی برآمدکنندگان کیلئے نئی شرائط

5 ستمبر , 2026
Netherlands' multi-billion dollar gold transferred from the US to London.
تازہ ترین

نیدرلینڈزکا اربوں ڈالر کا سونا امریکا سے لندن منتقل

4 ستمبر , 2026
Gold becomes more expensive; price of one tola rises by Rs 3,900.
تازہ ترین

سونا مزید مہنگا، ایک تولہ 3900روپے بڑھ گیا

4 ستمبر , 2026
Gold per tola 3 thousand 500 rupees cheaper, the price has become 4 lakh 83 thousand 36 rupees
تازہ ترین

سونا فی تولہ 3 ہزار 500 روپے سستا، قیمت 4 لاکھ 83 ہزار 36 روپے ہوگئی

27 اگست , 2026
اگلی خبر
Congress leader Arjun Kharge calls Narendra Modi a terrorist

کانگریس رہنما ارجن کھڑگےنے نریندر مودی کو دہشت گرد قرار دے دیا

یہ بھی پڑھیں

مدینہ منورہ میں 11 کروڑ ٹن خام معدنی وسائل کی دریافت، یورینیم کی موجودگی کی بھی تصدیق

مدینہ منورہ میں 11 کروڑ ٹن خام معدنی وسائل کی دریافت، یورینیم کی موجودگی کی بھی تصدیق

14 ستمبر , 2026
مقامی ہائی برڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں بڑی کمی، شرح 25 سے 18 فیصد کردی گئی

مقامی ہائی برڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں بڑی کمی، شرح 25 سے 18 فیصد کردی گئی

14 ستمبر , 2026
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشین نیوی چیف کی ملاقات

آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشین نیوی چیف کی ملاقات

14 ستمبر , 2026
سہیل آفریدی کی لاہورپولیس کے ہاتھوں گرفتاری اور رہائی

سہیل آفریدی کی لاہورپولیس کے ہاتھوں گرفتاری اور رہائی

14 ستمبر , 2026
سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24ارکان اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 24ارکان اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم

14 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔