ماسکو: (پاک ترک نیوز)عالمی سیاست خطرناک موڑ پر پہنچ گئی۔ روس کھل کر میدان میں آ گیا۔ امریکا کی ایران پر حملے کی دھمکیوں پر ماسکو نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کر دیا ہے کہ یہ قدم مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔
روسی وزارتِ خارجہ نے اپنے سخت بیان میں کہا ہے کہ ایران کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔ اگر امریکا نے احتجاج کو بہانہ بنا کر ایران پر حملہ کیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ کیونکہ جون 2025 ء میں ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے بعد خطہ پہلے ہی شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایک نئی جنگ عالمی سلامتی کو براہِ راست خطرے میں ڈال دے گی۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح کیا ہے کہ روس اور ایران کے تعلقات کسی دباؤ سے کمزور نہیں ہوں گے کیونکہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے بنیادی قومی مفادات سے جڑے ہیں۔ لاوروف نے یورپ کی جنگی تیاریوں کے بیانات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا اور کہا کہ دنیا کو ایک اور بڑی جنگ کی طرف دھکیلنا خود کشی کے مترادف ہوگا۔روس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایران کے اندر جاری احتجاج کو ہوا دے رہا ہے، جبکہ مغربی پابندیاں ایرانی معیشت کو تباہ کرکے عوامی غصے کو بڑھا رہی ہیں۔
ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اب ان مظاہروں میں بیرونِ ملک سے منظم مسلح عناصر شامل ہو چکے ہیں، جن کا مقصد ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کو کھلی حمایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ “مدد آ رہی ہے”۔ تاہم روس نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی “مدد” کا مطلب اگر فوجی مداخلت ہوا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ روس نے اپنے شہریوں کو ایران میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے، لیکن ساتھ ہی امید ظاہر کی ہے کہ حالات معمول پر آئیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکا روس کی اس وارننگ کو سنجیدگی سے لے گا؟ یا دنیا ایک نئی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟












