واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک اہم اور دو جماعتی بل منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد چینی کمپنیوں کو جدید امریکی مصنوعی ذہانت چِپس تک رسائی سے روکنا ہے۔
یہ بل خاص طور پر اس مبینہ خفیہ راستے کو بند کرنے کیلئے لایا گیا ہے جس کے تحت چینی کمپنیاں بیرونِ ملک ڈیٹا سینٹرز کرائے پر لے کر امریکی پابندیوں کے باوجود طاقتور AI ہارڈویئر استعمال کر رہی تھیں۔Remote Access Security Act کے نام سے منظور ہونے والا یہ قانون دراصل امریکی ایکسپورٹ کنٹرول قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا ہے، جس کے تحت اب نہ صرف فزیکل چِپس بلکہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ذریعے ریموٹ رسائی بھی امریکی برآمدی پابندیوں کے دائرے میں آ جائے گی۔
امریکی کانگریس کی چین سے متعلق خصوصی کمیٹی (Select Committee on the CCP) کے مطابق یہ بل حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ دشمن ممالک کو جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً AI چِپس، تک دور دراز رسائی سے بھی روک سکے۔
گذشتہ برس نومبر میں امریکی میڈیا رپورٹس میں انکشاف ہوا تھا کہ کچھ چینی کمپنیاں کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے سقم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے Nvidia کے جدید ترین Blackwell AI چِپس استعمال کر رہی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تحقیق کے مطابق شنگھائی میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کمپنی INF Tech نے انڈونیشیا میں ایک ڈیٹا سینٹر کرائے پر لے کر تقریباً 2300 ممنوعہ Nvidia AI GPUs تک رسائی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق 32 Nvidia GB200 سرورز ایک انڈونیشین ٹیلی کام کمپنی سے تقریباً 100 ملین ڈالر کے معاہدے کے تحت حاصل کیے گئے تھے۔
اسی طرح امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں Alibaba اور ByteDance نے بھی جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ڈیٹا سینٹرز کرائے پر لے کر Nvidia چِپس کے ذریعے اپنے بڑے لینگویج ماڈلز (Qwen اور Doubao) کی ٹریننگ کی۔
امریکا اور چین کے درمیان AI چِپس کی جنگ ایک چوہے بلی کے کھیل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن چین کو جدید AI ہارڈویئر سے دور رکھنے کیلئے مسلسل پابندیاں سخت کر رہا ہے، جبکہ بعض پابندیوں میں نرمی بھی کی گئی ہے، جیسے Nvidia H200 چِپس کی محدود فروخت کی اجازت۔
دوسری جانب چینی کمپنیاں مختلف طریقوں سے ان پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔اگرچہ H200 چِپس کی برآمد کی اجازت دی جا چکی ہے، تاہم Nvidia کی Blackwell اور آئندہ آنے والی Vera Rubin آرکیٹیکچر پر مبنی چِپس تاحال مکمل طور پر ممنوع ہیں۔
نئے قانون کا بنیادی ہدف انہی جدید چِپس تک کلاؤڈ کے ذریعے ریموٹ رسائی کو روکنا ہے۔بل کے مرکزی محرک اور چیئرمین جان مولینار نے کہا:”چینی کمیونسٹ پارٹی کی AI خواہشات امریکی چِپس کے ذریعے پوری کی جا رہی ہیں، جو چین سے باہر ڈیٹا سینٹرز میں نصب ہیں۔
یہ قانون واضح کرتا ہے کہ کلاؤڈ کمپیوٹنگ بھی امریکی ایکسپورٹ کنٹرول قانون کے تابع ہے، بالکل فزیکل چِپس کی طرح۔ ان راستوں کو بند کرنا امریکی قومی سلامتی اور اختراعات کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔”یہ قانون امریکا کی جانب سے AI ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کی ایک اور بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔






