واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ترکیہ کو جدید ترین F-35 لائٹننگ ٹو جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری دینے پرانتہائی سنجیدگی سے غورکر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ترکیہ کا مقامی پانچویں نسل کا KAAN جنگی طیارہ ابھی ترقی کے مرحلے میں ہے اور اس کے 2030 سے قبل مکمل آپریشنل ہونے کی توقع نہیں۔
صدر ٹرمپ کے بیان سے قبل امریکہ میں ترکیہ کے سفیر اور شام کے لیے خصوصی نمائندے ٹام بیریک بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ترکیہ کی F-35 پروگرام میں دوبارہ شمولیت پر بات چیت جاری ہے۔
ان کے مطابق ترکیہ اس وقت ایک صلاحیتی خلا کا سامنا کر رہا ہے، جو KAAN کی عملی شمولیت تک برقرار رہے گا۔ امریکی فضائیہ کا F-35A لائٹننگ ٹو ایک اسٹیلتھ جنگی طیارہ ہے، جسے ترکیہ عبوری حل کے طور پر حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی فضائی برتری اور جنگی تیاری کو برقرار رکھا جا سکے۔
ترکیہ کی جانب سے F-35 میں دوبارہ دلچسپی کے پیچھے ایک واضح اسٹریٹجک سوچ کارفرما ہے۔ چونکہ KAAN ابھی مکمل طور پر تیار نہیں، اس لیے ترک دفاعی منصوبہ ساز کسی ایسے پلیٹ فارم کے خواہاں ہیں جو اس عبوری دور میں فضائی دفاع، اسٹیلتھ صلاحیت اور نیٹو ہم آہنگی کو یقینی بنا سکے۔
F-35 نہ صرف اس خلا کو پُر کرتا ہے بلکہ خطے میں ترکیہ کو اپنے حریف ممالک اور نیٹو اتحادیوں کے برابر کھڑا رکھتا ہے۔KAAN جنگی طیارہ، جسے ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز (TAI) تیار کر رہی ہے، ترکیہ کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی ہوابازی منصوبہ ہے۔
اسے باضابطہ طور پر Milli Muharip Uçak (MMU) کہا جاتا ہے اور اس کا پرانا نام TF-X تھا۔ یہ دو انجنوں پر مشتمل اسٹیلتھ طیارہ، ترکیہ کے پرانے F-16 بیڑے کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
KAAN منصوبے کی بنیاد 15 دسمبر 2010 کو رکھی گئی، جب ترکیہ کی دفاعی صنعت کی اعلیٰ کمیٹی نے اس پروگرام کی منظوری دی۔ 2011 میں TAI کے ساتھ باضابطہ معاہدہ ہوا جبکہ انجن کی تیاری کی ذمہ داری TEI کو دی گئی۔ ابتدائی مرحلے میں 2 کروڑ ڈالر کے بجٹ سے ڈیزائن اور تکنیکی صلاحیتوں پر کام کیا گیا۔
2016 میں منصوبہ مکمل ترقی کے مرحلے میں داخل ہوا، جس میں ASELSAN اور TÜBİTAK نے ایویونکس، ریڈار اور مشن سسٹمز میں اہم کردار ادا کیا۔16 مارچ 2023 کو طیارے نے زمینی آزمائشیں شروع کیں، جبکہ 21 فروری 2024 کو KAAN نے اپنی پہلی کامیاب پرواز کی، جس کے ساتھ ترکیہ ان چند ممالک میں شامل ہو گیا جو پانچویں نسل کا جنگی طیارہ خود تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
2025 کے آغاز میں KAAN باقاعدہ فلائٹ ٹرائلز میں داخل ہو چکا تھا، اور فروری میں اس نے مکمل پروفائل ٹیسٹ فلائٹ بھی کامیابی سے مکمل کی۔ اب تک درجن سے زائد آزمائشی پروازیں ہو چکی ہیں۔دفاعی ذرائع کے مطابق 2026 میں طیارے کے اسٹرکچر اور اسٹیلتھ ڈیزائن کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
ابتدائی یونٹس میں امریکی GE F110 انجن استعمال ہوں گے، جبکہ مستقبل میں مکمل طور پر مقامی ترک انجن لگایا جائے گا۔ترک حکام کے مطابق پہلا پروڈکشن ماڈل 2028 میں ملنے کی توقع ہے، جبکہ ابتدائی آپریشنل صلاحیت (IOC) 2030 میں حاصل ہوگی۔
مکمل جنگی تیاری اور اسکواڈرن سطح پر تعیناتی 2032 سے پہلے ممکن نہیں۔اسی پس منظر میں ترکیہ کی F-35 میں واپسی کو کسی سیاسی پسپائی کے بجائے عملی اور وقتی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق F-35 اور KAAN کو ساتھ چلانے سے ترکیہ کو پانچویں نسل کی جنگی حکمتِ عملی، اسٹیلتھ مینٹیننس، اور جدید فضائی جنگی تجربہ حاصل ہوگا، جو مستقبل میں KAAN کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اگر امریکی کانگریس نے منظوری دے دی تو امکان ہے کہ 2019 سے امریکہ میں روکے گئے چھ F-35 طیارے ابتدائی مرحلے میں ترکیہ کو دے دیے جائیں۔ بعد ازاں مزید طیارے مرحلہ وار فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ترکیہ کی فضائی طاقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مقامی خودکفالت اور عالمی اسٹریٹجک توازن دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔












