
از:سہیل شہریار
ترکیہ اور پاکستان کے درمیان پاکستان میں جدید ترین ڈرون بنانے کے لئے اسمبلی پلانٹ قائم کرنے کی غرض سے بات چیت حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ترکیہ کی عالمی شہرت یافتہ ڈرون بنانے والی کمپنی بایکر اور پاکستان کی وزارت دفاعی پیداوار کا ایک ماتحت ادارہ مل کرسرمایہ کاری کریں گے۔
ترک اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں ترک حکام کے نام ظاہر کئے بغیر بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے پر کام آخری مرحلے میں ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاع کے شعبے میں تعاون کئی دہائیوں پر مشتمل ہے۔
اور اب ڈرون جہازوں کی تیاری کے لئے بایکر نے پاکستان میں بایکر ٹیکنالوجیز پاکستان کے نام سے کمپنی رجسٹر کروالی ہے جو پاک فضائیہ کے ماتحت ایک ادارے کے ساتھ ملکر کام کرے گی۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے تحت ترکیہ پاکستان سے اسٹیلتھ اور طویل برداشت کرنے والے ڈرونز کی برآمدات بھی کرے گا۔ جس کے لئے اکتوبر سے بات چیت جاری ہے۔جو اب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان مذاکرات کے مرکز میں اصل سازوسامان بنانے والاادارہ ممکنہ طور پربایکر ہو گا۔اس سے قبل بایکر نے نہ صرف بغیر پائلٹ کے کئی فضائی گاڑ یوں خاص طور پربایکر ٹی بی۔2اور بایکر اینچے کو پاکستان ایئر فورس کو برآمد کیا ہے۔ساتھ ہی اس نے پاک فضائیہ کے اندرون ملک سائنس اور آر اینڈ پی این اےٹیکنالوجی پارک (این اے ایس ٹی پی) میں سرمایہ کاری بھی کی ہے۔
جبکہ ان دونوں اداروںکی شراکت داری ترکیہ کے پہلے بغیر پائلٹ کے جنگی جہاز کزیلیلما کی تحقیق و تیاری کے کام کے علاوہ کا جی ایم ۔وی تھری چھوٹےفضا سے چلائے جانے والے کروز میزائل اور دیگر جنگی سازوسامان کی ترقی کا باعث بنی ہے۔
تاہم پاکستان میں اپنا سیٹ اپ بنانے کے بعد اب بایکر نے نیسٹپ سے اپنے تعلقات ختم کر لیے ہیں ۔اور اب اسکی توجہ فضائیہ سمیت ملک کی ڈرونز اور اسلحہ مارکیٹ پر مرکوز ہو گئی ہے۔چنانچہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ڈرونز بنانے کے اسمبلی پلانٹ کی تنصیب اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ترک کمپنی کو مستقبل میں مشرق وسطیٰ میںدیگر برآمدی گاہکوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تینوں مسلح افواج سے بھی بڑے آرڈرز ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔












