تہران ( پاک ترک نیوز) یورینیم کے معاملے پر امریکا اور ایران پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے ایران افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے کو تیار ہے ،جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے افزودہ یورینیم کو امریکا منتقل کرنا کبھی آپشن نہیں رہا۔ آخر ایران کے پاس کتنا افزودہ یورینیم موجود ہے؟
بین الاقوامی ایجنسیوں کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 400 سے 450 کلو گرام یورینیم افزودہ ہے، اس میں کم افزودہ یورینیم کا ایک بڑا ذخیرہ ہے، جسے ضرورت پڑنے پر مزید افزودہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں محدود نگرانی نے ان اعداد و شمار کی مکمل تصدیق کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
یورینیم اپنی قدرتی حالت میں قابل استعمال نہیں ہوتا۔ اسے قابل استعمال بنانے کے لیے اس میں یورینیم-235 کی مقدار بڑھائی جاتی ہے، جسے افزودگی کہا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق 3 سے 5 فیصد تک افزودہ یورینیم بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہےجبکہ 20 فیصد سے زیادہ افزودگی اسے حساس بنا دیتی ہے۔لیکن اصل تشویش تب پیدا ہوتی ہے جب یہ سطح 90 فیصد تک پہنچ جائے،کیونکہ یہی وہ سطح ہے جہاں یورینیم کو جوہری ہتھیار بنانے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 25 کلوگرام 90 فیصد افزودہ یورینیم ایک جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ چالیس سے بیالیس کلو گرام یورینیم جو 60 فیصد تک افزودہ ہے کو بھی ہتھیاروں میں مزید پروسیس کیا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 60فیصد سے 90فیصد افزودگی تک پہنچنے کا عمل نسبتاً تیز ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنازع صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اعتماد اور ارادوں کا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ ایران کا بڑھتا ہوا ذخیرہ اس کے بریک آؤٹ ٹائم کو کم کر سکتا ہے، یعنی ہتھیاروں کے درجے کی صلاحیت تک پہنچنے میں جو وقت لگتا ہے۔
کیا امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کسی نئے معاہدے کی طرف بڑھے گی۔یا دنیا ایک اور خطرناک تصادم کی طرف جا رہی ہے؟فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔












