استنبول: (پاک ترک نیوز) ترکیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مقابلے میں مزید طویل بنایا جائے گا۔ اب اس کی لمبائی 300 میٹر (تقریباً 984 فٹ) رکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ نیٹو ممالک کے زیرِ استعمال طیارہ بردار جہازوں میں سب سے طویل جہازوں میں شامل ہو جائے گا۔
ہفتے کے روز استنبول کے ایک شپ یارڈ میں ترکیہ کی بحری صنعت سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب اردوان نے اس نئے طیارہ بردار جہاز کے حجم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس جہاز پر کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اسے TCG Anadolu کا “بڑا بھائی” قرار دیا، جو ترک بحریہ کا ایک ایمفی بیئس اسالٹ جہاز ہے اور اس کی لمبائی 261 میٹر ہے۔
اگرچہ کسی جنگی جہاز کی لمبائی اس کے مجموعی حجم کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، جو عام طور پر پانی کے وزن (ڈس پلیسمنٹ) سے ناپا جاتا ہے۔ تاہم طیارہ بردار جہاز کی لمبائی اس کے فلائٹ ڈیک کی گنجائش پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اس سے طیاروں کی تعداد، رن وے کی لمبائی اور کیٹا پلٹ یا ریمپ لانچ سسٹم جیسے اہم عوامل متاثر ہوتے ہیں۔
جب 2024 کے آخر میں ترکیہ نے اپنے نئے طیارہ بردار جہاز، جسے فی الحال MUGEM کلاس کہا جا رہا ہے، کی تفصیلات جاری کی تھیں تو اس کا وزن 60 ہزار ٹن اور لمبائی 935 فٹ بتائی گئی تھی۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق اس جہاز پر 50 طیارے تعینات کیے جا سکتے تھے، جن میں سے 20 فلائٹ ڈیک پر موجود ہوتے، جبکہ عملہ تقریباً 800 افراد پر مشتمل ہونا تھا۔
نئی لمبائی کے بعد یہ جہاز امریکی طیارہ بردار جہازوں کے قریب پہنچ گیا ہے، جو دنیا میں سب سے بڑے سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی USS Gerald R. Ford کی لمبائی 1,107 فٹ اور وزن تقریباً 100 ہزار ٹن ہے، جبکہ Nimitz کلاس جہاز بھی تقریباً اسی سائز کے ہیں۔
ترکیہ کا یہ نیا جہاز برطانیہ کے Queen Elizabeth کلاس جہازوں (932 فٹ لمبائی، 80 ہزار ٹن وزن) اور فرانس کے پرانے طیارہ بردار جہاز Charles De Gaulle (857 فٹ لمبائی، 42,500 ٹن وزن) سے بھی نمایاں طور پر بڑا ہوگا۔
اگرچہ ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، لیکن وہ طویل عرصے سے دفاعی خود مختاری کے حصول کے لیے اپنی مقامی فوجی ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھا رہا ہے۔
ابتدائی طور پر اس جہاز پر اسکی جمپ ریمپ لگانے کا منصوبہ تھا، تاہم اب توقع ہے کہ اس میں ترکیہ کا مقامی طور پر تیار کردہ کیٹا پلٹ سسٹم استعمال کیا جائے گا۔ امریکا کی جانب سے 2019 میں روسی S-400 دفاعی نظام خریدنے کے بعد ترکیہ کو F-35 پروگرام سے نکال دیا گیا تھا، اس لیے امکان نہیں کہ یہ جہاز عمودی ٹیک آف کرنے والے F-35B طیارے استعمال کرے۔
اسی تقریب میں صدر اردوان نے Reis کلاس آبدوزوں میں سے دوسری آبدوز TCG Hızırreis کو بحریہ میں شامل کرنے کا اعلان بھی کیا، جبکہ ایک نئی بغیر پائلٹ سطحی بحری گاڑی (Uncrewed Surface Vessel) ULAQ کو بھی متعارف کرایا۔
واضح رہے کہ ترکیہ کے پاس نیٹو میں امریکا کے بعد دوسرا سب سے بڑا مستقل فوجی دستہ موجود ہے۔












