
از: سہیل شہریار
غزہ میں امن معاہدے کے طے پانے کے بعد جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور سب سے بڑھ کر انسانی امداد کی بحالی کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لئے امن منصوبے کا ابتدائی مرحلہ تو خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا ہے۔ مگر اسے خطے خصوصاً فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پائیدار امن کا موجب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ دہائیوں بلکہ صدیوں کی نفرت ہفتوں یا مہینوں میں ختم نہیں ہو سکتی۔خاص طور پر جب ایک فریق نے دنیا کی مقتدر قوتوں کی مدد سے آپکی زمین اور آپکے گھروں پر قبضہ کر لیا ہو اور نئی تعمیرات کا سلسلہ تاحال جاری ہو۔
https://www.youtube.com/watch?v=ymDum_V-QJc
چنانچہ یہ ایک بچگانہ خیال ہو گا کہ جو کچھ حاصل ہو چکا ہے ۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ اور شرم الشیخ میں معاہدے پر دستخط کرنے والوں اور وہاں موجود اسکے گواہوں کا کام مکمل ہو گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔ ابھی تو 20نکاتی ا من منصوبے کی ابتدائی پانچ شقوں پر ہی عمل ہو پایا ہے۔جبکہ اہم ، وقت طلب اور فلسطین اور اسرائیل سے بڑھ کر مشرق وسطیٰ کے خطے کے ملکوں کے امن پر یک جا ہونے کے امور پر عمل درآمد ابھی باقی ہے۔ جبکہ اسرائیل تو شام اور لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔جبکہ خطے میں قیام امن کے لئے اسرائیل کے زیر قبضہ اردن مصر اور شام کے وہ علاقے جن پر 1967کی جنگ اور اسکے بعد وقتاً فوقتاً اسرائیل قا بض ہوتا رہا ہے۔ ان کا کیا بنے گا۔ کیونکہ امن منصوبے میں ان مقبوضہ عرب علاقوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
فلسطین میں قیام امن کے لئے صدر ٹرمپ اور دیگر سربراہان مملکت و حکومت کی کمیٹی اور اسکی نگرانی میں سابق برطانوں وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی سربراہی میںغزہ کے امور چلانے کے لئے ٹیکنو کریٹس کی کمیٹی دونوں کی تشکیل ابھی باقی ہے ۔ اور یہ بھی طے ہونا ہے کہ حماس جس کے وجود کا خاتمہ اسرائیل کا بنیادی مطالبہ رہا ہے ۔ اس پر عمل کیسے ہوگا ؟ جبکہ صدر ٹرمپ کی منظوری سے تنظیم کو فی الحال غزہ میں پو لیسنگ کی ذمہ دای سونپ دی گئی ہے۔ اور حماس کا بھی کہنا بجا ہے کہ وہ بڑے ہتھیار تو امن کے ثالثوں کے حوالے کرے گی مگر اپنے مخالفین سے حفاظت کے لئے اس کا کوئی بھی کارکن نہتا ہونے کی غلطی نہیں کر سکتا۔
https://www.youtube.com/shorts/hfHsokjjJYQ
غزہ کی تعمیر نو کیسے ہوگی۔ جہاں ایک منصوبہ بندی کے تحت 80فیصد سے زیادہ عمارتیں اور بنیادی سہولتوں کا ڈھانچہ تباہ کیا جا چکا ہے۔لوگوں کے گھر، سکول ،ہسپتال،بازار غرض سب کچھ اندھادھندکی جانے والی بمباری سے ملبے کےڈھیروں میں بدل چکا ہے۔ ٹرمپ نے شرم الشیخ میں اپنے خطاب میں اشارہ کیا تھا کہ یہاں دنیا کے امیر ترین ملک موجود ہیں ۔تو کیا وہ ٹرمپ کو غزہ کے ساحل کے ساتھ امرأ کے لئے راویرا بنانے میں سرمایہ کاری کریں گے یا لاکھوں فلسطینیوں کو انکے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کے لئے امداد فراہم کریں گے۔
یہیں اس بات کا تعین ہونا بھی باقی ہے کہ غزہ سے حماس کی رخصتی کے بعد اس سارے عمل میں فلسطینی اتھارٹی کا کیا کردار ہو گا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر قیام امن کے لئے بنیادی معاملے فلسطین اسرائیل دو ریاستی حل کا کیا بنے گا۔ جس کا اب 20نکاتی امن منصوبے میں ذکر تک نہیں ہے۔












