لاہور (پاک ترک نیوز) پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سنگم پر واقع ٹیکسلا کے دو تاریخی مقامات سِرکپ اور موہڑا مرادو آثارِقدیمہ کی دیکھ بھال سے متعلق ایک تنازع کا موضوع بن گئے ۔
ٹیکسلا میں بھر ماونڈ اور سرکیپ جیسےتاریخی مقامات پر غیرقانونی تعمیرات، سیاحوں کی بے احتیاطی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث دیواریں اور قدیم ڈھانچے متاثر ہونے لگے ۔ کئی مقامات پر اینٹوں اور پتھروں کی اصل ساخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے جبکہ بعض آثار موسمی شدت کے باعث ماند پڑتے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے تاریخی شہر ٹیکسلا میں آج بھی ماضی کی عظیم تہذیبوں کے نقوش بکھرے ہوئے ہیں۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق موجودہ دور کے ٹیکسلا میں کم از کم 18 ایسے مقامات دریافت ہوچکے ہیں جہاں کسی نہ کسی زمانے میں آبادیاں، عبادت گاہیں یا علمی مراکز موجود تھے۔ جب یہ شہر اپنے عروج پر تھا تو اسے ٹیکسلا کہا جاتا تھا، مگر آج ان مختلف مقامات کو پہچان دینے کے لیے الگ الگ نام دیئے گئے۔
سر کپ اور بھر ماونڈ جسے قدیم ٹیکسلا کا ابتدائی مرکز سمجھا جاتا تھا،تاریخی شواہد کے مطابق تقریباً 300 قبل مسیح میں یہاں ایک باقاعدہ اور منظم شہر تعمیر کیا گیا۔سرکپ کی نمایاں خصوصیت اس کی منصوبہ بندی تھی۔ یہاں گلیاں شطرنج کی بساط کی طرز پر ترتیب دی گئیں، جن کے آثار آج بھی واضح دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سرکپ میں مختلف ادوار میں تین تہذیبوں کے شہر آباد رہے، جنہوں نے یونانی، بدھ مت اور مقامی طرزِ تعمیر کے امتزاج کو جنم دیا۔
تاریخی حقائق کے ساتھ ساتھ سرکپ سے جڑی ایک مشہور لوک داستان بھی زبان زدِ عام ہے۔ روایت کے مطابق راجہ سرکپ اپنے دربار میں پانسے کا کھیل کھیلتا تھا اور شکست کھانے والوں کا سر قلم کر دیتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پالتو چوہے ہار قریب آتے ہی بساط بکھیر دیتے تھے تاکہ راجہ کبھی نہ ہارے۔
جب اس ظلم کی خبر راجہ رسالو کو ملی توو وہ مقابلے کے لیے سرکپ آ پہنچا۔ راجہ رسالو اپنے ساتھ ایک بلی لایا تاکہ چوہوں کی چال ناکام بنائی جاسکے۔ کئی سخت بازیوں کے بعد آخرکار راجہ رسالو کامیاب ہوگیا اور راجہ سرکپ اپنی سلطنت، دولت اور آخر میں اپنا سر بھی ہار بیٹھا۔ روایت کے مطابق راجہ رسالو نے اس کی جان بخشی کے بدلے اس کی بیٹی رانی کوکلاں سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔
سر جان مارشل نے انیس سو تیرہ میں بڑے پیمانے پر کھدائی کا آغاز کیا ان کی تحقیق نے نہ صرف ٹیکسلا کی تاریخ کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا بلکہ یہاں استعمال ہونے والے تعمیراتی سامان، شہری منصوبہ بندی اور تہذیبی ارتقا کی تفصیلات بھی محفوظ کیں۔
سر جان مارشل نے راجہ رسالو کی داستان کی بنیاد پر اس شہر کے نام کی تشریح بھی پیش کی ان کی مشہور کتاب دی کنزرویشن میئنول آج بھی آثار قدیمہ کے تحفظ کے حوالے سے بنیادی رہنما سمجھی جاتی ہے۔
ہزاروں سال قدیم تہذیبوں کے امین ٹیکسلا کے آثارِ قدیمہ آج مختلف خطرات کی زد میں ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ موسمی تبدیلیاں، بارشوں کا پانی، زمین کا کٹاؤ اور انسانی غفلت ان تاریخی ورثوں کو تیزی سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کے یہ نشانات معدوم ہوسکتے ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ثقافتی سرمایہ ہے۔ ٹیکسلا بدھ مت، یونانی اور گندھارا تہذیبوں کا ایک اہم مرکز رہا، جہاں علم، فن اور مذہب نے صدیوں تک فروغ پایا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے محققین اور سیاح اس تاریخی شہر کا رخ کرتے ہیں۔












