اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آج شام تک سامنے آجائے گی، واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے، جو بھی ذمہ دار ہوا اس کے خلاف کارروائی ہوگی، کسی کو نہیں چھوڑیں گے اور کوئی چیز نہیں چھپائیں گے۔سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز سانحے سے بڑا دلخراش واقعہ کوئی نہیں ہوسکتا، 14 نومولود جان سے چلے گئے، اس پر کوئی وضاحت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود کو بھی احتساب کے لیے پیش کردیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان میں صحت کے نظام کی صورتحال مثالی ہے۔ پاکستان میں روزانہ تقریباً 1300 بچے جان سے جاتے ہیں، جن میں سے کئی جانیں بہتر طبی سہولیات کے ذریعے بچائی جاسکتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سینیٹ کی کمیٹی بنانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، تاہم ان کے خیال میں صرف کمیٹی بنانے سے 40 دن میں کوئی نتیجہ نہیں نکل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پمز سانحے کی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر ہوں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ میرے سمیت جو بھی ذمہ دار ہوگا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کی ابتدائی رپورٹ آج وزیراعظم کو پیش ہوگی،اعظم نذیر تارڑ
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہر آدمی کہتا ہے کہ ’’اس کے چور کو ہٹا کر میرا چور لگا دو‘‘، تاہم سانحہ پمز کے ذمہ داروں کا تعین سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔مصطفیٰ کمال کی تقریر کے دوران اپوزیشن سینیٹرز کی جانب سے شور شرابہ بھی کیا گیا، جس کے باعث ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔












