لاہور( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نے جہاں دنیا بھر کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ، وہیں کچھ عالمی کمپنیاں اس جنگی ماحول سے اربوں ڈالر سمیٹ رہی ہیں۔
دنیا میں تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے تاہم فروری کے اواخر سے یہ بالکل بند ہے۔اس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور اس سب کا بھرپور فائدہ تیل اور گیس کمپنیوں کو ہوا۔
سب سے زیادہ فائدے میں وہ یورپی آئل کمپنیاں رہیں جن کی اپنی ٹریڈنگ کمپنیاں ہیں اور انھوں نے قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اتار چڑھاؤ سے منافع کمایا۔
رواں سال کے پہلے تین ماہ میں برطانوی تیل کمپنی بی پی کا منافع دوگنا ہو کر تقریباً 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جسے وہ اپنی ٹریدنگ ڈویژن کی غیر معمولی کارکردگی سے جوڑ رہے ہیں۔
پہلی سہ ماہی میں شیل کا منافع بڑھ کر 6 ارب 92 کروڑ ڈالر ہو گیا جو تجزیہ کاروں کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
ایک اور بین الاقوامی تیل کمپنی ٹوٹل انرجیز کا 2026 کی پہلی سہ ماہی میں منافع تقریباً ایک تہائی اضافے کے بعد پانچ ارب 40 کروڑ ڈالر ہو گیا ۔ منافع کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ تیل اور ایندھن کی منڈیوں میں عدم استحکام ہے۔
امریکی کمپنیوں ایکسون موبل اور شیورون کی آمدن گذشتہ برس اسی مدت کے مقابلے میں کم رہی۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ سے رسد میں خلل بتایا گیا تاہم دونوں کمپنیوں کے نتائج تجزیہ کاروں کے اندازوں سے اب بھی بہتر ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سال کے دوران ان کے منافع میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ جنگ کے آغاز سے قبل کے مقابلے میں تیل کی قیمت اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ نے اسلحہ ساز کمپنیوں کے دروازے بھی کھول دیے ہتجزیہ کاروں کے مطابق ایران ،امریکا تنازع سے یورپ اور امریکہ میں میزائل دفاع، ڈرون روکنے کے نظام اور عسکری ساز و سامان میں سرمایہ کاری میں تیزی آ گئی۔
ایف 35 فائٹر جیٹ کے پرزہ جات اور دیگر مصنوعات تیار کرنے والی دفاعی کمپنی بی اے ای سسٹمز کے مطابق رواں برس اپنی سیلز اور منافع میں خاطر خوا اضافے کی توقع ہے۔
ڈنمارک کی ہوائی توانائی کی بڑی کمپنیوں ویسٹاس اور اورسٹڈ کے منافع میں نمایاں اضافہ ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی جنگ کے اثرات قابلِ تجدید توانائی کی کمپنیوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔
وال سٹریٹ کے بڑے قرض دہندگان کو ٹریڈنگ کی مانگ میں اضافے سے فائدہ ہوا کیونکہ سرمایہ کار نسبتاً خطرناک حصص اور بانڈز سے اپنی رقم نکال کر ایسے اثاثوں میں منتقل کر رہے ہیں جنھیں نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے مالی منڈیوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش سے بھی ٹریڈنگ کے حجم میں اضافہ ہوا۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں بھی اضافہ ہوا، جس سے خاص طور پر چینی گاڑی ساز کمپنیوں نے بہت فائدہ اٹھایا












