
از: سہیل شہریار
اقوام متحدہ نے خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت( اے آئی) کے استعمال کے نتیجے میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان عدم مساوات بڑھنے کا خطرہ تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔
یہ رپورٹ "آئندہ بڑی تقسیم” کے عنوان سے منگل کے روز اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایشیا اور پیسفک علاقائی بیورو کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ جس میں ٹیکنالوجی کے اثرات کو منظم کرنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اور مربوط پالیسی بنائے جانےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں امیر اور غریب ملکوں کے درمیان خلیج کے غییر مساوی طور پر بڑھنے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے دلیل دی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت ماضی کے صنعتی انقلاب کی طرح غیر معمولی مواقع کو کھولنے یا موجودہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جس سے عالمی منظر نامے میں دولت، مہارت اور ڈیجیٹل رسائی میں وسیع خلا پیدا ہو سکتا ہے۔جبکہ مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے غریب ریاستیں پیچھے رہ گئیں تو امیر ممالک کو بھی نقصان پہنچے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہایشیا اور بحرالکاہل کا علاقہ دنیا کی 55 فیصد سے زیادہ آبادی کا گھر ہے۔ اور اس تکنیکی تبدیلی کے مرکز میںواقع ہےجہاں عالمی اے آئی صارفین کی نصف سے زیادہ تعدادبستی ہے۔
علاقے کے ممالک پہلے ہی اے آئی کی ٹیکنالوجی سے فوائدحاصل کر رہے ہیں جیسے کہ دور دراز کے اسکولوں میں ٹیوشن کو بہتر بنانا، بیماری کا پتہ لگانے میں تیزی لانا، چھوٹے کاروباروں کے لیے کریڈٹ تک رسائی کو بڑھانا، اور تباہی کے ردعمل کو مضبوط بنانا۔اسی تناظر میں یہ پیشین گوئی بھی کی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال خطے میں سالانہ جی ڈی پی کی نمو میں تقریباً 2 فیصد کا اضافہ کر سکتا ہے۔ جس میں آسیان کی معیشتیں اگلی دہائی کے دوران اضافی جی ڈی پی کے ساتھ تقریباً ایک کھرب ڈالر اضافی حاصل کرنے والی ہیں۔
تاہم مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی غیر مساوی فوائد فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ جس سے اسکااستعمال کرنے اور نہ کرنے والوںکے درمیان فرق نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔چنانچہ ابتدائی مرحلے میںسنگاپور، جاپان اور چین جیسی ترقی یافتہ معیشتیںاس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ مگر کمزور کنیکٹیویٹی، ناقابل اعتماد طاقت اور محدود تکنیکی مہارتوں والی قومیں محروم ہیں۔اسی کے نتیجے میںہونے والی آٹو میشن سے خواتین اور نوجوانوں کی لاکھوں ملازمتوں کوشدید خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی یقین کے ساتھ یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ اے آئی ہمیں مستقبل میں کہاں لے جائے گی۔ اور نہ ہی ہم پوری طرح سے تصور کر سکتے ہیں کہ یہ کس چیز کو بنانے یا تباہ کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔
یو این ڈی پی نےرپورٹ کے آخر میں کہا ہے کہ بالآخر یہ اختیار مشینوں کا نہیں۔ بلکہ دنیا کے لوگوں کا ہونا چاہئیے کہ کون سی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جائے اور ان کا بہترین فائدہ کیسے اٹھایا جائے۔












