جمعرات , 30 جولائی , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے امیر اور غریب ممالک کے درمیان عدم مساوات بڑھنے کا خطرہ

8 مہینے پہلے
A A
مصنوعی ذہانت کے استعمال سے امیر اور غریب ممالک کے درمیان عدم مساوات بڑھنے کا خطرہ
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار
اقوام متحدہ نے خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت( اے آئی) کے استعمال کے نتیجے میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان عدم مساوات بڑھنے کا خطرہ تیزی سے حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔
یہ رپورٹ "آئندہ بڑی تقسیم” کے عنوان سے منگل کے روز اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایشیا اور پیسفک علاقائی بیورو کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ جس میں ٹیکنالوجی کے اثرات کو منظم کرنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اور مربوط پالیسی بنائے جانےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔


رپورٹ میں امیر اور غریب ملکوں کے درمیان خلیج کے غییر مساوی طور پر بڑھنے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے دلیل دی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت ماضی کے صنعتی انقلاب کی طرح غیر معمولی مواقع کو کھولنے یا موجودہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جس سے عالمی منظر نامے میں دولت، مہارت اور ڈیجیٹل رسائی میں وسیع خلا پیدا ہو سکتا ہے۔جبکہ مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے غریب ریاستیں پیچھے رہ گئیں تو امیر ممالک کو بھی نقصان پہنچے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہایشیا اور بحرالکاہل کا علاقہ دنیا کی 55 فیصد سے زیادہ آبادی کا گھر ہے۔ اور اس تکنیکی تبدیلی کے مرکز میںواقع ہےجہاں عالمی اے آئی صارفین کی نصف سے زیادہ تعدادبستی ہے۔
علاقے کے ممالک پہلے ہی اے آئی کی ٹیکنالوجی سے فوائدحاصل کر رہے ہیں جیسے کہ دور دراز کے اسکولوں میں ٹیوشن کو بہتر بنانا، بیماری کا پتہ لگانے میں تیزی لانا، چھوٹے کاروباروں کے لیے کریڈٹ تک رسائی کو بڑھانا، اور تباہی کے ردعمل کو مضبوط بنانا۔اسی تناظر میں یہ پیشین گوئی بھی کی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال خطے میں سالانہ جی ڈی پی کی نمو میں تقریباً 2 فیصد کا اضافہ کر سکتا ہے۔ جس میں آسیان کی معیشتیں اگلی دہائی کے دوران اضافی جی ڈی پی کے ساتھ تقریباً ایک کھرب ڈالر اضافی حاصل کرنے والی ہیں۔


تاہم مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی غیر مساوی فوائد فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ جس سے اسکااستعمال کرنے اور نہ کرنے والوںکے درمیان فرق نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔چنانچہ ابتدائی مرحلے میںسنگاپور، جاپان اور چین جیسی ترقی یافتہ معیشتیںاس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ مگر کمزور کنیکٹیویٹی، ناقابل اعتماد طاقت اور محدود تکنیکی مہارتوں والی قومیں محروم ہیں۔اسی کے نتیجے میںہونے والی آٹو میشن سے خواتین اور نوجوانوں کی لاکھوں ملازمتوں کوشدید خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی یقین کے ساتھ یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ اے آئی ہمیں مستقبل میں کہاں لے جائے گی۔ اور نہ ہی ہم پوری طرح سے تصور کر سکتے ہیں کہ یہ کس چیز کو بنانے یا تباہ کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔
یو این ڈی پی نےرپورٹ کے آخر میں کہا ہے کہ بالآخر یہ اختیار مشینوں کا نہیں۔ بلکہ دنیا کے لوگوں کا ہونا چاہئیے کہ کون سی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جائے اور ان کا بہترین فائدہ کیسے اٹھایا جائے۔

موضوعات : aiartificalintellegenceunitednations
ShareSend

متعلقہ خبریں

پاکستان میں 2035 تک خطے کا مصنوعی ذہانت مرکز بننے کا ہدف
تازہ ترین

پاکستان میں 2035 تک خطے کا مصنوعی ذہانت مرکز بننے کا ہدف

28 جولائی , 2026
Rising popularity of Chinese artificial intelligence models among US companies.
تازہ ترین

امریکی کمپنیوں میں چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مقبولیت میں اضافہ

8 جولائی , 2026
Five countries elected as non-permanent members of the Security Council
تازہ ترین

پانچ ممالک سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن منتخب

4 جون , 2026
AI made Babar Azam Ustad Babar Nusrat
تازہ ترین

اے آئی نے بابر اعظم کو استاد بابر نصرت بنا دیا

2 جون , 2026
لبنان پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف یو این سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے ،فرانس
اہم ترین 3

لبنان پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف یو این سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے ،فرانس

31 مئی , 2026
Iran protests to UN over seizure of ships
تازہ ترین

بحری جہازوں کو قبضے میں لینے پر ایران کااقوام متحدہ سے احتجاج

29 اپریل , 2026
اگلی خبر
پاک افغان امن مذاکرات پھر بے نتیجہ ختم، سیز فائر جاری رکھنے پر اتفاق

پاک افغان امن مذاکرات پھر بے نتیجہ ختم، سیز فائر جاری رکھنے پر اتفاق

یہ بھی پڑھیں

ایران کو سخت مار پڑنے والی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کو سخت مار پڑنے والی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ

29 جولائی , 2026
پاکستان خطے میں امن کیلئے کردار ادا کر رہا ہے ،وزیراعظم کی کویتی وزیر خارجہ سے ملاقات

پاکستان خطے میں امن کیلئے کردار ادا کر رہا ہے ،وزیراعظم کی کویتی وزیر خارجہ سے ملاقات

29 جولائی , 2026
فیلڈ مارشل سے کویتی وزیر خارجہ کی ملاقات

فیلڈ مارشل سے کویتی وزیر خارجہ کی ملاقات

29 جولائی , 2026
امریکا کا ایرانی صوبےمغربی آذربائیجان میں میزائل حملہ

امریکا کا ایرانی صوبےمغربی آذربائیجان میں میزائل حملہ

29 جولائی , 2026
عراق کو نئی جنگ میں نہ دھکیلو،مقتدیٰ الصدر کی ایران سے اپیل

عراق کو نئی جنگ میں نہ دھکیلو،مقتدیٰ الصدر کی ایران سے اپیل

29 جولائی , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔