اسلام آباد (پاک ترک نیوز )وفاقی حکومت نے قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت پاکستان کو 2035 تک خطے میں مصنوعی ذہانت کا اہم مرکز بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پالیسی کا مقصد ملک میں جدید، محفوظ، شفاف اور اخلاقی اصولوں پر مبنی مصنوعی ذہانت کے نظام کو فروغ دینا ہے۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق ڈیجیٹل پاکستان پالیسی 2018 اور ویژن 2025 کے تحت ڈیجیٹل نظام، برقی حکمرانی، برقی صحت، برقی تعلیم اور سرکاری و نجی شعبے کے اشتراک کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ شناختی نظام، صحت، ٹیکس وصولی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کی معیشت اور نظامِ حکمرانی میں انقلابی تبدیلی لائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کوانٹم ویلی، قومی اختراعی فنڈ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی منصوبہ بندی جیسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ ہدف ہے کہ 2027 تک کم از کم ایک اہم وفاقی وزارت کے بنیادی امور میں مصنوعی ذہانت کا استعمال یقینی بنایا جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم، صحت، تجارت، تحقیق اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنا کر 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
اس مقصد کے لیے 283 ارب روپے مالیت کے قومی مصنوعی ذہانت ماحولیاتی نظام ترقیاتی پروگرام کی تجویز دی گئی تھی، تاہم نئے وفاقی بجٹ میں اس کے لیے صرف ایک ارب روپے مختص کیے گئے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نادرا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے شناختی تصدیق، ٹیکس وصولی، دھوکہ دہی کی روک تھام اور خدمات کی فراہمی میں بہتری آئی ہے، جبکہ دور دراز علاقوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیلی میڈیسن سے صحت کی سہولیات تک رسائی بھی آسان ہوئی ہے۔
قومی مصنوعی ذہانت پالیسی میں چھ بنیادی شعبوں پر مشتمل روڈ میپ دیا گیا ہے، جس میں اختراع، مہارتوں کی تربیت، محفوظ مصنوعی ذہانت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور بین الاقوامی تعاون شامل ہیں۔ پالیسی کے تحت 10 لاکھ افراد کو تربیت دینے، قومی مصنوعی ذہانت فنڈ قائم کرنے اور مصنوعی ذہانت کے مراکزِ امتیاز کے قیام کے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت سرکاری شعبے میں مصنوعی ذہانت کی تیاری کے عالمی اشاریے میں 92ویں نمبر پر ہے، جبکہ امریکہ پہلے، چین 17ویں اور بھارت 32ویں نمبر پر موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ، انٹرنیٹ کی سہولیات، ادارہ جاتی صلاحیت اور سرکاری ملازمین کی تربیت جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف 12 فیصد سرکاری افسران نے مصنوعی ذہانت سے متعلق باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے تحت قومی ڈیجیٹل مصنوعی ذہانت، قومی ڈیٹا تبادلہ نظام اور اوپن ڈیٹا ایکو سسٹم جیسے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ حکمرانی کو مزید شفاف، مؤثر اور جدید بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے مصنوعی ذہانت کو سرکاری نظام میں مؤثر انداز میں نافذ نہ کیا تو 2030 تک تقریباً 7 ارب ڈالر کے معاشی مواقع سے محروم ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال ملک کی مسابقت، سرمایہ کاری اور بہتر حکمرانی کے لیے ناگزیر بن چکا ہے۔












