
از:سہیل شہریار
وفاقی کابینہ نے سٹیٹ بنک کی جانب سے 10 روپے کے نوٹ کو بند کرنے کی سفارش کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے معاملہ مزید جانچ کے لیے کابینہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں ارکان نے 10 روپے کے نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز کا گہرا جائزہ لینے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کوئی حتمی فیصلہ لینے سے پہلے اس کی پیداواری لاگت اور مجوزہ 10 روپے کے سکے کے مقابلے میں نوٹ کی عمر کا واضح موازنہ کرنا چاہیے۔
بحث کے دوران کابینہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ نئے بینک نوٹ سیریز کے ڈیزائن، مواد کے انتخاب اور دیگر خصوصیات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا۔
اراکین نےسوال کیا کہ کیا پولیمر بینک نوٹ مقامی حالات کے لیے موزوں ہیں اور انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہیں۔
خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں چھوٹے بچے نوٹ چبا رہے ہوں ۔کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بینک نوٹوںکی موجودہ سیریز 2005 میں متعارف کرائی گئی تھی۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سیکیورٹی فیچرز اور پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت نے اسٹیٹ بینک کو نوٹوں کی نئی سیریز کے اجرا پر آمادہ کیا ہے۔جس کا بنیادی مقصد جعلی نوٹوں کے خلاف مزاحمت کو بہتر بنانا اور عوام کے لیے جعلی نوٹوں سے اصلی نوٹوں میں فرق کرنا آسان بنانا ہے۔
اس حوالے سے سٹیٹ بنک کے بورڈنے مقامی آب و ہوا اور استعمال کے حالات کے تحت پولیمر سبسٹریٹ پر چھاپے گئے نوٹوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پہلے مرحلے میں ا س میڑیل پر ایک ہزار روپے مالیت کا نوٹ جاری کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
جس کی کامیابی کی صورت میں اسے دیگر مالیتوں کے تمام نوٹوں تک توسیع کا فیصلہ بعد میں وفاقی حکومت کی منظوری سے کیا جائے گا۔اسی طرح ایس بی پی کے بورڈ نے نئی سیریز میں 10 روپے کے بینک نوٹ کو بند کرنے اور اسے 10 روپے کے سکے سے تبدیل کرنے کی سفارش کی تھی۔
جس کی پرنٹنگ لاگت سکے کی قیمت سے تقریباً 25 فیصدزیادہ ہے۔ جبکہ 10روپے کے نوٹ کی زیر گردش رہنے کی عمر نو ماہ سے بھی کم ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے اسکی منظوری دی گئی تو 20 روپے کا نوٹ ملک میں سب سے کم مالیت کا بینک نوٹ بن جائے گا۔












