لاہور( پاک ترک نیوز) دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں، پاکستان میں بھی ہر سال ہزاروں افراد اس جان لیوا مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کا دورہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ اس سے پہلے جسم کئی خطرے کی گھنٹیاں بجاتا ہے۔ اگر ان علامات کو بروقت پہچان لیا جائے تو قیمتی جان بچائی جا سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہناہے دل کا دورہ اس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں کسی رکاوٹ کا شکار ہو جائیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس کی ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ سینے میں ہلکا سا درد، بائیں بازو میں کھچاؤ، یا سانس لینے میں معمولی دشواری۔یہ سب وہ اشارے ہیں جنہیں ہم اکثر گیس، تھکن یا وقتی کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی لاپروائی بعض اوقات زندگی اور موت کے درمیان فرق بن جاتی ہے۔
امراض قلب کے ڈاکٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ دل کا دورہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ اس سے پہلے جسم کئی وارننگز دیتا ہے۔ ان میں سینے میں دباؤ، غیر معمولی پسینہ آنا، متلی، چکر آنا اور شدید تھکن جیسی علامات شامل ہیں۔ خاص طور پر اگر یہ علامات 15 سے 20 منٹ سے زیادہ برقرار رہیں تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے جسے ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک عام رجحان یہ ہے کہ لوگ درد کو برداشت کرنے یا خود ہی ٹھیک ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ ہسپتال جانے میں تاخیر، ڈاکٹر سے مشورہ نہ لینا اور گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنا صورتحال کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ حالانکہ طبی ماہرین کے مطابق دل کے دورے کے ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں، اور اسی دوران درست اقدام مریض کی جان بچا سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک عام رجحان یہ ہے کہ لوگ درد کو برداشت کرنے یا خود ہی ٹھیک ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ ہسپتال جانے میں تاخیر، ڈاکٹر سے مشورہ نہ لینا اور گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنا صورتحال کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ حالانکہ طبی ماہرین کے مطابق دل کے دورے کے ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں، اور اسی دوران درست اقدام مریض کی جان بچا سکتا ہے۔
دل کے امراض کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی، موٹاپا اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔ جدید طرزِ زندگی نے جہاں ہمیں سہولیات دی ہیں، وہیں بیماریوں کے خطرات بھی بڑھا دیے ہیں۔ فاسٹ فوڈ، بیٹھے رہنے کی عادت اور بڑھتا ہوا اسٹریس دل کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ دل کے دورے سے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنا، اور سب سے بڑھ کر اپنے جسم کے اشاروں کو سنجیدگی سے لینا—یہ سب اقدامات ہمیں اس خاموش قاتل سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر اپنی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر یاد رکھیں کہ دل کی دھڑکن ہی زندگی کی ضمانت ہے۔ اگر یہ رک جائے تو سب کچھ رک جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بلکہ اپنے پیاروں کی صحت کا بھی خیال رکھیں، کیونکہ بروقت احتیاط ہی اصل علاج ہے۔












