
از: سہیل شہریار
عالمی سیاسی امور کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کا اعلان کیا ہے ۔اس میںبہت سے ابہام موجود ہیں جنہیں ماضی کی طرح اب بھی اسرائیل اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے معاہدے سے منحرف ہو سکتا ہے۔ویسے بھی آٹھ بڑے عرب اور اسلامی ملکوں کے قائدین کو پیش کیے جانے والے 21نکاتی منصوبے میں سے دوریاستی حل کی جانب بڑھنے کا نکتہ ٹرمپ ۔نیتن یاہو ملاقات کے بعد غائب کر دیا گیا ہے ۔اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے عرب و اسلامی ملکوں کو اس امر کی الگ سے گارنٹی دی ہے کہ امریکہ اسرائیل کو مغربی کنارے کی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دے گا۔مگر منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کھل کر نہیں کی گئی۔
https://www.youtube.com/watch?v=k6xIB2qSjlE&t=2s
گذشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ مشرق وسطی میں امن کے لیےتاریخی دن ہے۔ ہم غزہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکےہیں۔ٹرمپ نےکہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سمیت عرب و اسلامی ملکوں کے رہنماوں نے میرے امن منصوبے کی حمایت کی ہے۔اور اب اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی میرا امن منصوبہ تسلیم کرلیا ہے۔ جبکہ ایران سے متعلق بھی نیتن یاہو کے ساتھ معاہدہ کیا گیاہے۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا ہدف صرف غزہ کی پٹی ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے۔ اور اگر حماس نے اسے قبول کر لیا تو اس تجویز میں تمام باقی ماندہ یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے امن منصوبے کے مزید خد وخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت عرب اور مسلم ممالک نے غزہ کو تیزی سے غیر مسلح کرنے سمیت حماس اور دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کی فوجی صلاحیت ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اور ہم ان ممالک پر بھروسہ کر رہے ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ وہ حماس سے نمٹیں گے اور میرےسننے میں آیا ہے کہ حماس بھی یہ کرنا چاہتی ہے۔مزید براںغزہ سے دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ بشمول سرنگیں اور اسلحہ بنانے کی تنصیبات ختم کر دی جائیں گی اور غزہ کی پٹی میں مقامی پولیس فورس کو تربیت دی جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امن معاہدہ طے پانے کے ساتھ ہی غزہ میں نئی عبوری اتھارٹی کے ساتھ کام کرتے ہوئے تمام فریق اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک ٹائم لائن پر متفق ہوں گے۔ اور مجھے امید ہے کہ مزید فائرنگ نہیں ہو گی۔
مگر جس وقت امریکہ میں امن کی بات ہو رہی تھی غزہ میں اسرائیلی بربریت انتہاؤں کو چھو رہی تھی ۔جس کے زمینی و فضائی حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔جبکہ حماس کی جانب سے بھی اسرائیل پر ایک بڑے جوابی حملے کی تیاریوں کی اطلاعات مل رہی ہیں جس میں پانچ ہزار کے قریب جنگجو حصہ لیں گے۔
چنانچہ دونوں متحارب فریق اگر امن کو کامیاب بنانے کے لئے مخلص نہیں ہوں گے تو دیرپا امن کا قیام کیسے ممکن ہے ۔کیونکہ اسرائیل تو پہلے بھی امن معاہدہ توڑ چکا ہے۔












