تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کے چھوٹے ہتھیار نے بڑے امریکی دفاعی نظام کو بے بس کردیا ، کھربوں ڈالر لگانے کے باوجود امریکی ہتھیار ایرانی Bavar-737سسٹم کے سامنے بے بس نظر آنے لگا ۔
ایران کے Bavar-737سسٹمز نے کئی امریکی ڈرونز کو نشانہ بنایا اور امریکہ کے TOMAHAWKمیزائل کو دور سے آپریٹ کرنے پر مجبور ہو گیا ۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے فرض کیا گیا ہوا مکمل فضائی کنٹرول شاید صرف ایک خواب ہے۔
ایران نے SA-65 بیٹریز کو اہم شہروں اور بنیادی تنصیبات کے اردگرد تعینات کیا ہے، تاکہ کسی بھی فضائی دراندازی کو ناکام بنایا جا سکے۔ جبکہ امریکہ کے THAAD انٹرسیپٹرز کی تعداد تقریباً 25 فیصد کم ہو گئی ہے، کیونکہ ایرانی بیلسٹک میزائلز کی بارش نے ان پر دباؤ ڈال دیا ہے۔
ایران کی جانب سے ایک دلچسپ سٹریٹجک سامنے آ رہی ہے کہ اس نے فتح2ہائپر سونک میزائلوں کی مسلسل لانچ جاری رکھی ہے جس کے باعث امریکی حملوںؒ کی لاگت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور دوسری اس سے تنازعے کا طوالت بھی مل رہی ہے ۔
اسلامی انقلاب گارڈ کورز کے عہدیداروں کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ یہ سسٹمز امریکی فوج کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اور اگر ایران کا دفاع اسی طرح مضبوط اور لچکدار رہے، تو یہ ایک طویل جنگ میں بدل سکتی ہے، جس سے امریکا کے مہنگے اور جدید وسائل جلد ختم ہو سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیا امریکا اور اسرائیل واقعی ایرانی فضاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں؟ یا یہ صرف پینٹاگون کی دن کی خیالی سوچ ہے؟












