ریاض ( پاک ترک نیوز)سعودی عرب اور پاکستان سمیت دیگر عرب اور مسلم ملکوں نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک انتہائی حساس علاقے میں یہودی آباد کاروں کے لئے اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔جسے فوری طور پر بند کیا جانا ناگزیر ہے۔
اسرائیلی وزارتِ تعمیرات و ہاؤسنگ نے گذشتہ منگل کو یروشلم کے مشرق میں عیون کے علاقے میں ایک ہزار 200 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے ہیں۔اس زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گی جس سے ایک متصل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ناممکن ہو جائے گا۔جبکہ مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم بھی ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے جسے فلسطینی اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔
سعودی میڈیاکے مطابق سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی مسلسل غیر قانونی آباد کاری کی پالیسیوں کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی۔ان مسلم ممالک نے مشرقی یروشلم کے مشرق میں عیون آباد کاری کے منصوبے اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے پر زور دیا۔وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’یہ منصوبہ ایک خطرناک اشتعال انگیزی کی نمائندگی کرتا ہے جو مزید آباد کاری میں توسیع اور الحاق کو آگے بڑھانے کا باعث بنے گا، خصوصاً مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان مقبوضہ فلسطینی علاقے کے جغرافیائی تسلسل کو نقصان پہنچائے گا۔‘جبکہ’یہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، متصل فلسطینی ریاست کے قابل عمل ہونے اور اس کے قیام کو خطرے میں ڈالتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ منصوبہ امن کے حصول کے لیے بین الاقوامی کوششوں خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے کے لیے براہ راست چیلنج ہے جس میں الحاق اور جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے۔‘یہ منصوبہ صدر ٹرمپ کے مغربی کنارے کے الحاق کو روکنے کے عزم کو بھی چیلنج کرتا ہے جس کا مقصد استحکام کا حصول اور اس تنازعے کا خاتمہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اگلے ماہ امریکا کا دورہ کریں گے
بیان میں علاقے میں اسرائیل کی دیگر غیر قانونی آباد کاری کی پالیسیوں کی بھی مذمت کی گئی۔ اس کے ساتھ اسرائیلی قابض حکام کی سپورٹ سے آباد کاروں کی جانب سے فلسطیینوں اور ان کی املاک کے خلاف کی جانے والی خلاف ورزیوں اور تشدد کی کارروائیوں کی بھی مذمت کی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ ’ایسی کارروائیاں فلسطینوں کے ناقابل تنسیخ تاریخی حقوق کو کسی بھی طرح کم نہیں کر سکتیں۔ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘
وزرائے خارجہ نے غیرقانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کے ذمہ دار اداروں، افراد، انہیں مدد اور مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کا بھی مطالبہ کیا۔












