
از:سہیل شہریار
مکہ مکرمہ میںخانہ کعبہ کی چھت پر شمالی جانب نصب پرنالے کو میزاب رحمت یعنی رحمت کا پرنالہ کہا جاتاہے۔ اس سے بارش کا پانی یا چھت کو دھونے پر جمع ہونے والا پانی حجر اسماعیل یا حطیم کے اندر گرتا ہے۔
تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ خانہ کعبہ میں سب سے پہلے میزاب رحمت لگانے والے قریش تھے۔ جنہوں نے 604عیسوی میں بیت اللہ کی تعمیر نو کی تھی ۔
امام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی نے ام المومنین عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے مروی حدیث بیان فرمائی ہے کہ”عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا کہ کیا یہ بیت اللہ کا ہی حصہ ہے؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا ۔جی ہاں! عائشہ رضي اللہ تعالٰی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا کہ اسے پھر بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کيا گيا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب تھا کہ تیری قوم کے پاس خرچہ کے لیے رقم کم پڑ گئی تھی ۔میں نے کہا کہ بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا تیری قوم نے اسے اونچا اس لیے کیا تا کہ وہ جسے چاہیں بیت اللہ میں داخل کریں اورجسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں ۔اور اگرتیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوتی اوران کے دل اس بات کوتسلیم سے انکارنہ کرتے تو میں اسے ( حطیم ) کوبیت اللہ میں شامل کردیتا اوردروازہ زمین کے برابرکردیتا”۔
قریش نے خانہ کعبہ تعمیر کرتے وقت اس پر پہلی مرتبہ چھت ڈالی تھی۔ اوراس کے نتیجے میں چھت سے پانی کے اخراج کے لئےپرنالہ خانہ کعبہ کی دیوار میں لگایا گیا تھا۔اس پرنالے کی لمبائی 258 سینٹی میٹر تھی۔تاریخ کے مختلف ادوار میں میزاب رحمت کی تجدید اورتزئین ہوتی رہی ہے۔ ترکیہ کے عثمانی حکمرانوں نے خانہ کعبہ کے دیگر حصوں کی طرح میزاب رحمت پر سونے کی پرت چڑھائیتھی۔
کعبہ شریف میں نصب موجودہ میزاب رحمت خالص سونے کا ہے۔ یہ شاہ فہد کے زمانے میں بنایا گیا تھا۔ جسےمکہ کے معروف سنار شیخ محمد نشار نے تیار کیا تھا۔ اس کا عرض 26 سینٹی میٹر ہے۔ یہ دونوں جانب سے 23، 23 سینٹی میٹر اونچاہے۔ جبکہ اس کا 58 سینٹی میٹر حصہ دیوار میں شامل ہے۔ اس کا اندرونی حصہ ٹھوس چاندی کا بنا ہوا ہے اور اس کے اوپر سونے کی چادر چڑھائی گئی ہے۔جبکہ چاندی اور سونے کے درمیان موٹی لکڑی لگی ہوئی ہے۔ موجودہ میزاب رحمت پر خط ثلث میں اس کی بناوٹ اور تجدید کی تاریخ درج ہے۔
اب حطیم کی بات کرتے ہیں۔”حجرِ اسماعيل” یا "حطیم” مسجد حرام کے مطاف میں خانہ کعبہ کے شمال میں واقع نصف دائرے کی شکل کی ایک دیوار ہے۔اس پر اجماع امت ہے کہ یہ خانہ کعبہ سے علیحدہ نہیں بلکہ اسی کا ایک حصّہ ہے۔
تاریخی مصادر و مراجع میں "حطیم” کے کئی نام آئے ہیں مگر ان میں مشہور ترین پانچ نام ہیں۔، ان میں پہلا نام "الحجر” ہے۔ اس کا دوسرا نام "جدر” اور تیسرا نام "حجرِ اسماعیل” ہے۔ تیسرے نام کی توجیہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مقام کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے گود کے طور پر چُنا تھا۔ چوتھا نام "حفرہِ اسماعیل” ہے۔ بیت اللہ کے ستون کھڑے کرنے اور بنیادیں ڈالنے سے قبل اس مقام پر ایک گڑھا تھا۔پانچواں نام "الحطیم” ہے۔ خانہ کعبہ سے بظاہر علیحدہ نظر آنے کے سبب اس کو یہ نام دیا گیا۔












