از:سہیل شہریار

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے روئے زمین پر حرمین الشریفین سے بڑھ کر اور کوئی مقدس جگہ نہیں ۔15صدیوں پر محیط اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمان حکمرانوں کی جانب سےدونوں حرمین کی تزئین و توسیع کی جاتی رہی ہے۔ جس میں خود رسول اللہ ﷺ کی جانب سے شروع کیا جانے والا سلسلہ دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمرفاروق ؓ سے ہوتا ہوا آج تک جاری ہے۔
حرمین الشریفین کی تزئین و توسیع کے کاموں کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں اور اب سعودی عرب کے موجودہ حکمران آل سعود خاندان کے حکمرانوں نے تاریخی کارنامے سرانجام دئیے ہیں۔
مگر ہم آج مسجد نبوی شریف کے دروازوں کا ذکر کریں گےجن کی تعداد شاہ فہد کی توسیع کے بعد اب 100 ہو گئی ہے۔ اور وہ اپنے اندر مختلف ادوار کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔
مسجد نبوی کے دروازوں کی بناوٹ دیکھنے والا کافی دیر تک ان کی خوبصورتی میں گم ہو جاتا ہے ۔ ہر دروازے کو اس مہارت سے تیار کیا گیا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔
اسلام کے ابتدائی دور میں مسجد نبوی کے تین دروازے تھے۔مسجد نبوی کے جنوب میں ایک دروازہ اس جانب تھا جہاں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی جاتی تھی۔ دوسرا دروازہ باب النبی مسجد نبوی کے مشرق میں تھا۔ اسے باب عثمان بھی کہا جاتا تھا پھر یہ باب جبریل کے نام سے مشہور ہوا۔
جبکہ تیسرا دروازہ باب عاتکۃ مسجد نبوی کے مغرب میں تھا ۔ ان دنوں یہ دروازہ باب رحمہ کے نام سے مشہور ہے۔
خلیفہ دوم حضرت عمرفاروقؓ کے زمانے میں مسجد نبوی میں مزید تین دروازوں کا اضافہ کیا گیا۔جس کے بعد عباسی خلیفہ المھدی کے دور میں مسجد نبوی کے دروازوں کی تعداد چوبیس ہوگئی۔جن میں سے آٹھ، آٹھ دروازے مشرق اور مغرب کی جانب ۔جبکہ چار چار دروازے شمال اور چار جنوب کی جانب بنائے گئے۔
مسجد نبوی شریف کاہردروازہ اپنے نام سے موسوم ہے جن میں ’باب السلام، باب بقی، باب ابوبکر صدیق ؓ، باب الرحمہ، باب جبریل، باب النسا، باب عبدالمجید ،باب کنگ عبدالعزیز اور باب شاہ فہدزیادہ معروف ہیں۔اور ان کے نقش و نگاراسلامی فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔
ان میں سے بیشتر دروازے خادم حرمین شریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز کی جانب سے 1984سے1992تک جاری رہنے والے عظیم الشان توسیعی منصوبے کے موقع پر تعمیر کیے گئے۔ جبکہ ان دروازوں کی تیاری کے لئے عالمی سطح پر شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔












