لاہور (پاک ترک نیوز)
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے باعث ایرانی سپریم لیڈر سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آ رہے ہیں۔ برطانوی میڈیا نے انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ بدترین صورتحال کے پیش نظر آیت اللہ خامنہ ای نے فرار کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر ملک میں سیکیورٹی فورسز احتجاج پر قابو پانے میں ناکام رہیں تو آیت اللہ خامنہ ای اپنے قریبی حلقے اور اہل خانہ کے ہمراہ ایران چھوڑ کر ماسکو جا سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ ہنگامی حالات کے لیے احتیاطی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ اگر حالات غیر معمولی حد تک خراب ہو جائیں تو قیادت کے پاس متبادل راستہ موجود ہو۔ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ یا عملی قدم اٹھایا جا چکا ہے۔
تاہم پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ان خبروں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سے متعلق پھیلائی جانے
والی باتیں جھوٹی اور مضحکہ خیز ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای ایرانی عوام اور ملک کے چوکس سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ایسی افواہوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک بار پھر دشمن کا پروپیگنڈا نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے جو غلط معلومات پھیلا کر کنفیوژن پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر ناصرف ثابت قدم رہبر ہیں بلکہ ایرانی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں، اور ملک کے دفاع اور سلامتی سے متعلق معاملات میں براہ راست کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے موجودہ دور میں ڈیجیٹل دہشت گردی، غلط معلومات اور اخلاقی بددیانتی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ایرانی سفیر نے اپنے مؤقف کی تائید کے لیے ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی ایک تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ رائفل تھامے نظر آ رہے ہیں۔












