اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سینیٹ کے جاری اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے متاثرین کے لیے 65 ارب روپے کے بقایا جات جاری کرنے کو تیار ہے، تاہم اس کے لیے سیفران کمیٹی کی اجازت درکار ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی کے تحت ایک فیصد اضافی حصہ دیا جاتا ہے اور صوبے کو اب تک 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت متاثرین کے لیے مختص رقوم کسی صوبے کو دینے سے نہیں روکتی۔وزیر مملکت کے مطابق جنوبی وزیرستان کے متاثرین کے لیے 117 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔ گھروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے دوبارہ سروے بھی کرایا گیا، جس کے تحت مکمل تباہ ہونے والے گھر کے لیے 4 لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان والے گھر کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار روپے معاوضہ مقرر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی کا ٹائر اچانک کیوں پھٹ جاتا ہے؟
انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں معاوضوں کی تقسیم سے متعلق خصوصی آڈٹ مکمل ہو چکا ہے، تاہم آڈٹ رپورٹ پر ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کا ایک اجلاس ابھی باقی ہے۔ سیفران کمیٹی کی اجازت ملنے کے بعد وفاقی حکومت بقایا رقم جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ متاثرین کے معاملے کو سیاسی تقریر سے جوڑنے سے مسئلہ مزید متاثر ہوگا، اس لیے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے متاثرین کے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔












