لاہور(پاک ترک نیوز)تصور کریں، آپ اپنی فیملی کے ساتھ گاڑی میں جا رہے ہیں، رفتار تیز ہے، راستہ سنسان ہے، اور اچانک ایک زور دار دھماکا ہوتا ہے! گاڑی ایک طرف جھٹکا کھاتی ہے، اسٹیئرنگ بے قابو ہونے لگتا ہے اور چند سیکنڈ میں زندگی اور موت کا فیصلہ ہونے لگتا ہے! یہ کسی فلم کا منظر نہیں، چلتی گاڑی کا ٹائر پھٹنے کی حقیقت ہے!
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر چلتی گاڑی کا ٹائر اچانک کیوں پھٹ جاتا ہے؟ کیا اس کی وجہ صرف تیز رفتار ہے؟ کیا پرانا ٹائر کسی بھی لمحے جان لیوا حادثے کا سبب بن سکتا ہے؟ اور کیا ٹائر پھٹنے سے پہلے کوئی ایسی علامت ظاہر کرتا ہے جسے پہچان کر آپ اپنی جان بچا سکتے ہیں؟
اصل کہانی شروع ہوتی ہے ٹائر کے اندر سے۔ جب گاڑی مسلسل چلتی ہے تو ٹائر سڑک کے ساتھ رگڑ کھاتا ہے اور گرم ہوتا ہے۔ اگر ٹائر میں ہوا کا دباؤ مقررہ حد سے کم ہو، گاڑی پر ضرورت سے زیادہ وزن ہو یا ٹائر پہلے ہی خراب ہو تو حرارت اور اندرونی دباؤ اس کی ساخت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹائر اچانک پھٹ سکتا ہے
لیکن خطرہ صرف گرمی کا نہیں! سڑک پر پڑا کوئی نوکیلا ٹکڑا، کیل، گڑھا، ٹائر کی سائیڈ پر چوٹ، پرانی ربڑ میں دراڑیں یا اندرونی تہوں کی خرابی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ بعض اوقات ٹائر باہر سے ٹھیک دکھائی دیتا ہے، لیکن اندر سے کمزور ہو چکا ہوتا ہے۔
اب سب سے اہم بات! اگر تیز رفتار پر اچانک ٹائر پھٹ جائے تو گھبرا کر بریک مت ماریں۔ اسٹیئرنگ کو مضبوطی سے پکڑیں، گاڑی کو سیدھا رکھنے کی کوشش کریں، ایکسلریٹر سے پاؤں آہستہ ہٹائیں اور رفتار کم ہونے تک اچانک موڑ کاٹنے سے گریز کریں۔ گاڑی قابو میں آنے کے بعد محفوظ جگہ پر رکیں۔
اور حادثے سے بچنے کے لیے ہر سفر سے پہلے ٹائروں میں ہوا کا دباؤ چیک کریں، ٹائر کی حالت دیکھیں، گاڑی پر مقررہ حد سے زیادہ وزن نہ ڈالیں اور پرانے یا خراب ٹائر کو نظرانداز نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار7 ممالک کی اہم سفارتی بیٹھک میں شرکت کے لیے استنبول روانہ
یاد رکھیں۔ چند منٹ کی لاپروائی پورے خاندان کی زندگی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ گاڑی کی رفتار جتنی اہم ہے، اس کے ٹائروں کی حالت بھی اتنی ہی اہم ہے۔






