واشنگٹن (پاک ترک نیوز) امریکی محکمہ دفاع ’’پینٹاگون‘‘ نےاپنے فوجی اخبار ’’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘‘ (Stars and Stripes) کے تین سینئر اہلکاروں کو بغاوت کے الزامات کے تحت عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ برطرف ہونے والوں میں اخبار کے تجربہ کار ناشر، چیف ایڈیٹر اور مشرق وسطیٰ کی نمائندہ شامل ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق برطرف کیے جانے والوں میں ناشر میکس لیڈرر، چیف ایڈیٹر ایرک سلاوِن اور مشرق وسطیٰ کی نمائندہ لارا کورت شامل ہیں۔معاملے سے واقف ایک ذریعے کے مطابق یہ برطرفیاں اس وقت ہوئیں جب سلاوِن اور کورت نے بغیر اجازت گزشتہ ماہ نشر ہونے والے نیوز چینل سی بی ایس کے صبح کے پروگرام کے ایک حصے میں شرکت کی۔جس میں پینٹاگون کی جانب سے اخبار کی تنظیم نو کی کوششوں پر بات کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ناشر میکس لیڈرر نے پینٹاگون کی قیادت کی جانب سے بعض صحافیوں کو برطرف کرنے کی ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کیا تھا۔
سلاوِن نے بتایا ہے کہ برفی کے نوٹس کے مطابق مجھے اس لیے برطرف کیا جا رہا ہے کیونکہ میں نے سی بی ایس کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے شائع ہونے والی خبروں پر سنسرشپ عائد کرنا ایک ریڈ لائن ہوگا۔ پینٹاگون کے شعبہ تعلقات عامہ نے مجھ پر بغاوت کا الزام عائد کیا ہے۔دوسری جانب 2024 میں اخبار سے وابستہ ہونے والی لارا کورٹ نے ’’ایکس‘‘ پر کہا کہ مجھے آج بتایا گیا ہے کہ محکمہ دفاع مجھے بغاوت کے الزام میں برطرف کر رہا ہے۔ کیونکہ میں نے سی بی ایس کے ایک رپورٹر سے کہا تھا کہ میں ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے لیے کام کرتی ہوں، پینٹاگون، کسی انتظامیہ یا کسی پالیسی ساز کے لیے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حساس علاقے میں نئی یہودی بستیوںکی تعمیر بند کرے۔اسلامی ملکوں کا مطالبہ
میکس لیڈرر، جو امریکی فوج کے سابق اہلکار بھی ہیں، 1992 میں ’’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘‘ سے وابستہ ہوئے اور 19 سال تک اس کے ناشر رہے۔ وہ پہلے ہی ملازمین کو بتا چکے تھے کہ وہ ستمبر کے آخر میں ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔برطرف کیے گئے تینوں ملازمین کو اپنے خلاف کیے گئے فیصلوں پر اپیل کرنے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا گیا ہے۔پینٹاگون سے مؤقف طلب کیے جانے پر محکمہ دفاع کے ترجمان نے متعلقہ فریقوں کو اخبار کے نائب ناشر برائے عسکری امور کیپٹن ولیم اربن کی جانب سے بھیجے گئے ایک کھلے خط کا حوالہ دیا۔پینٹاگون کے مرکزی ترجمان شان پارنیل نے بھی اس خط کا ایک حصہ ’’ایکس‘‘ پر شیئر کیا۔اربن نے کہا کہ موجودہ میڈیا ماحول دوسری جنگ عظیم کے دور سے مختلف ہے، اس لیے اخبار شاید ڈیجیٹل سطح پر وہ اثر پیدا نہ کر سکے جو اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران حاصل کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ محکمہ اخبار کے طریقۂ کار کو جدید بنائے گا اور اس کے مواد کو فوجی معاملات کی جانب دوبارہ مرکوز کرے گا، جن میں جنگی کارروائیاں، ہتھیاروں کے نظام، جسمانی فٹنس، جنگی صلاحیت اور بقا جیسے موضوعات شامل ہیں، جبکہ ان کے بقول ’’غیر ضروری توجہ بٹانے والے موضوعات‘‘ سے گریز کیا جائے گا۔








