کابل (پاک ترک نیوز )افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیب اللہ اخوندزادہ کی مذہبی تعلیمات اور پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے حوالے سے افغان طالبان کے طرزِ عمل میں تضادات کی نشاندہی کردی گئی۔
ایک تجزیاتی مضمون میں افغان طالبان کے سربراہ کی کتاب ’’دا اہل السنت والجماعت عقیدہ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کتاب میں امیر کی اطاعت، بغاوت کی ممانعت، مسلمانوں کی جان کے احترام اور امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا گیا ہے، تاہم تحریک طالبان پاکستان کی پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیاں ان اصولوں کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کرتی ہیں۔
مضمون کے مطابق افغان طالبان قیادت بارہا تحریک طالبان پاکستان سے تنظیمی اور عملی تعلقات کی تردید کرتی رہی ہے اور اسے ایک آزاد تنظیم قرار دیتی ہے، تاہم اقوام متحدہ کی رپورٹوں اور آزاد محققین کی تحقیقات دونوں گروہوں کے درمیان نظریاتی، تاریخی اور عملی روابط کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فروری 2026 میں جاری ہونے والی 37ویں رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان افغانستان سے سرگرم ہے اور اسے کابل میں قائم افغان طالبان انتظامیہ کی جانب سے نمایاں حمایت حاصل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکام نے تحریک طالبان پاکستان سمیت متعدد مسلح گروہوں کے لیے ایسا ماحول برقرار رکھا ہوا ہے جہاں وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
مضمون میں محققین عبدالسید اور تورے ہیمنگ کی تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے اگست 2021 میں کابل پر افغان طالبان کے قبضے کا خیرمقدم کیا تھا۔ 17 اگست 2021 کو جاری بیان میں اس پیش رفت کو عالمی جہادی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا عہد دوبارہ دہرایا اور افغان طالبان کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا۔
تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اعلانات افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مکمل لاتعلقی کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
مضمون کے مطابق ملا ہیبت اللہ نے اپنی کتاب کے صفحات 132 اور 133 میں امیر کی اطاعت کو مذہبی فریضہ قرار دیتے ہوئے اسلامی روایات اور ان کی تشریحات سے استدلال کیا ہے۔ ان کے مطابق حکمران کے کسی فیصلے سے اختلاف یا اس کے طرزِ عمل پر ناپسندیدگی بذات خود اس کی اطاعت چھوڑنے یا اس سے وفاداری ختم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔
اس حوالے سے مضمون میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر افغان طالبان کے نزدیک حکمران کی اطاعت مذہبی ذمہ داری ہے تو کیا وہ پاکستان کی ریاست کے خلاف تحریک طالبان پاکستان کی مسلح جدوجہد کو شرعی طور پر جائز سمجھتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس مؤقف کی مذہبی بنیاد کیا ہے؟
اس کے برعکس اگر افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کو غیر شرعی سمجھتے ہیں تو پھر اس تنظیم کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کرتے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟
مضمون میں ملا ہیبت اللہ کی کتاب میں مسلمانوں کے اتحاد اور اختلافات سے بچنے پر زور دینے کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید کی سورۃ آل عمران کی آیت 103 کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے میں نہ پڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تجزیے کے مطابق اگر مسلمانوں کا اتحاد مذہبی فریضہ ہے تو کیا اس میں پاکستانی شہری، مسلح افواج، پولیس اہلکار اور دیگر ریاستی اداروں کے افراد بھی شامل ہیں یا یہ اصول صرف ان گروہوں تک محدود ہے جو افغان طالبان کے نظریاتی اور سیاسی مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں؟
مضمون میں مزید سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا افغان طالبان قیادت ان مذہبی تشریحات کو واضح طور پر مسترد کرتی ہے جنہیں دوسرے مسلمانوں کے خلاف تشدد کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؟ اگر وہ ایسی کارروائیوں کو غیر اسلامی سمجھتی ہے تو تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں سے روکنے کے لیے اب تک کون سے قابلِ تصدیق اقدامات کیے گئے ہیں؟
تجزیاتی مضمون کے اختتام پر افغان طالبان قیادت سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا ملا ہبت اللہ کے بیان کردہ مذہبی اصول واقعی لازم ہیں یا انہیں صرف سیاسی سہولت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے؟
مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذہبی اصولوں کا اطلاق انتخابی بنیادوں پر نہیں ہوسکتا اور نظریاتی وابستگی مذہبی ذمہ داریوں سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔ ملا ہبت اللہ کے نظریات کا اصل امتحان ان کی تحریروں میں نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے معاملے میں ان اصولوں پر عملی عمل درآمد میں ہے۔








