کراچی ( پاک ترک نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسان دوستی، خدمتِ خلق اور بے لوث محبت کی علامت سمجھے جانے والے بابائے انسانیت عبدالستار ایدھی کو دنیا سے رخصت ہوئے آج دس برس مکمل ہو گئے۔
عبدالستار ایدھی نے اپنی پوری زندگی رنگ، نسل، مذہب اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد دکھی انسانوں کے دکھ بانٹنا اور بے سہارا افراد کا سہارا بننا قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی انہیں دنیا بھر میں احترام اور عقیدت سے یاد کیا جاتا ہے۔
عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928 کو اس وقت کے برطانوی ہندوستان کے شہر بانتوا میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی میں والدہ کی علالت کے باعث صرف گیارہ برس کی عمر میں ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی، جس نے ان کی شخصیت میں خدمتِ خلق کا جذبہ مزید مضبوط کیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئے اور انتہائی محدود وسائل کے باوجود صرف پانچ ہزار روپے کے سرمائے سے ایک چھوٹے سے فلاحی مرکز کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں ایدھی فاؤنڈیشن کی صورت میں دنیا کے بڑے فلاحی اداروں میں شمار ہونے لگا۔
عبدالستار ایدھی نے لاوارث بچوں کے لیے جھولے قائم کیے، یتیم بچوں کی کفالت کی، بے سہارا خواتین کے لیے پناہ گاہیں، بزرگوں کے لیے اولڈ ہومز، معذور افراد کے لیے بحالی مراکز، مفت اسپتال، ڈسپنسریاں، ایمبولینس سروس، مردہ خانے اور فری دسترخوان سمیت بے شمار فلاحی منصوبے شروع کیے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس آج بھی ملک کے دور دراز علاقوں تک بلا امتیاز خدمات انجام دے رہی ہے اور لاکھوں افراد کو بروقت طبی امداد فراہم کر چکی ہے۔
ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں نشانِ امتیاز سمیت متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا۔ انہیں رامون میگسیسے ایوارڈ، لینن پیس پرائز اور کئی دیگر عالمی اعزازات بھی حاصل ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے سپیکر پنجاب اسمبلی کی ملاقات
عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو 88 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے، تاہم ان کا مشن آج بھی ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی اور ایدھی فاؤنڈیشن کے رضاکار اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔
بابائے انسانیت عبدالستار ایدھی کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ انسانیت کی خدمت ہی سب سے بڑی عبادت ہے، اور یہی وہ عظیم ورثہ ہے جو انہیں ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رکھے گا۔






