
از سہیل شہریار
بنگلہ دیش میں 12فروری کو ہونے والے انتخاب میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ( بی این پی) سب سے آگے ہے اور اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی وفات کے بعد پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ بی این پی کی ممکنہ جیت کے بعد وہ ملک کی قیادت کریں گے۔
ڈیڑھ برس قبل تین بار کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت عوامی مظاہروں کے بعد ختم ہوئی تو انکے بھارت فرار کے بعد جہاں انہیں مقدمات اور سزاؤں کا سامنا ہے ۔ وہیں ان کی جماعت عوامی لیگ کو بھی سیاسی عمل اور الیکشن میں شرکت پر پابندی کا سامنا ہے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین اور ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے کے خواہشمند طارق رحمان کو 29اکتوبر 2006کو انکی والدہ خالدہ ضیا کی حکومت کے خاتمے پراپنی پارٹی کی مخالف فوجی جنتا کی دو پروردہ حکومتوں میں کرپشن اور اقربا پروری کئی دیگر الزمات کا سامنا کرنا پڑا ۔جس کے بعد شیخ حسینہ کے 2009میں شروع ہونے والے طویل دور اقتدار سے ایک برس پہلے ہی2008میںخود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے برطانیہ چلے گئے۔ تب انہوں نے کہا تھا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اور ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔اور اب پچھلے ڈایڑھ برس کے دوران طارق رحمان کے خلاف قائم تمام مقدمات اور سزائیں ایک ایک کر کے ختم ہو چکی ہیں۔جن میں سب سے سنگین الزام بھی شامل ہے جس میں انہیں 2004 میں شیخ حسینہ کے جلسے پر دستی بم حملے کے مقدمے میں غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
طارق رحمان جنہیں طارق ضیا بھی کہا جاتا ہے 1967 میں پیدا ہوئے۔ جب بنگلہ دیش مشرقی پاکستان تھا۔ ان کے والد ضیاء الرحمٰنچیف آف آرمی سٹاف تھے۔اور 1975میں شیخ مجیب الرحمان کے قتل کے بعدپے در پے بغاوتوں کےنتیجے میں 1977بنگلہ دیش کے صدر بنےاور 1981میں اپنے قتل تک اس عہدے پر فائز رہے ۔انہیں ملک کے اسلام پسند اور معتدل رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے شیخ مجیب الرحمان کی سخت گیر اور بھارت نواز پالیسیوں کا خاتمہ کرنے کے علاوہ سیاسی و مذہبی آزادیوں کی ترویج کی۔طارق رحمان 15 برس کے تھےجب ان کے والد ضیاء الرحمٰن کو قتل کر دیا گیا۔
بعد ازاں طارق رحمان نے اپنی والدہ کی زیرسرپرستی سیاسی ماحول میں پرورش پائی۔
25دسمبرجمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق 9 بج کر 59 منٹ پر سلہٹ ایئرپورٹ پر اتری۔ تو طارق رحمان نے اپنے سماجی رابطے کے اکاؤنٹ پر تصویر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ6,314 دن بعد بنگلہ دیش کی فضاؤں میں واپس۔سلہٹ میں مختصر قیام کے بعد انکی پرواز ڈھاکہ ایئرپورٹ پراتری تو پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بہت بڑی تعداد انکے استقبال کے لئے موجود تھی ۔طارق رحمان اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ تھے۔
بنگلہ دیش کے عام انتخابات کے لئے جاری مہم میں طارق رحمان کا مؤقف تقریباً وہی ہے جو اس سے پہلے انکے والد اور والدہ کا تھا۔ وہ بنیادی آزادیوں کی بحالی، سیاسی درجہ حرارت میں کمی ، ملکی معیشت کا استحکام اور ہمسایوں کے علاوہ اسلامی دنیا سے بنگلہ دیش کے تعلقات کی مضبوطی کے خواہاں ہیں۔ انکاکہنا ہے کہ وہ جولائی 2024کی طلبہ تحریک کے ماسٹر مائینڈ نہیں بلکہ انکے ملک کے جمہوریت پسند عوام اس تحریک کے حقیقی ماسٹر مائینڈ ہیں۔چنانچہ ہم نے دیکھا کہ گھریلو خواتین بھی اپنے بچوں کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ ہم نے کسانوں، مزدوروں، ڈرائیوروں، چھوٹی دکانوں کے ملازمین کو دیکھا۔ ہم نے ریٹائرڈ فوجی افسران اور ملازمین کو اس تحریک میں نکلتے دیکھا۔ بہت سے صحافی جو آمریت کے ظلم و ستم کے باعث ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے ۔وہ بھی اس تحریک میں شامل تھے۔
12فروری کے الیکشن کےحوالے سے طارق رحمان اپنے انتخابی جلسوں میں اکثر کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے عوام گزشتہ 17 سال سے اپنے سیاسی حقوق سے محروم ہیں۔ اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ جتنی جلد ممکن ہو اتنی ہی جلدی وہ حقوق ملک کے مالکان، یعنی عوام کو واپس کیے جائیں گے، اور جب وہ فیصلے کریں گے، یعنی جب ملک کے مالکان فیصلہ کریں گے کہ ملک کو کون چلائے گا اور کیسے تو اتنا ہی جلد ملک میں استحکام آئے گا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف الیکشن کروانے سے سب کچھ راتوں رات ٹھیک نہیں ہو جائے گا۔ لیکن جب آپ مسائل کو حل کریں گے تو قدرتی طور پر مسائل آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔
طارق رحمان خود کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار قرار نہیں دیتے بلکہ اس سوال پرسیاسی جواب دیتے ہیں کہ انکے خیال میں یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ میرا فیصلہ نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ بنگلہ دیش کے عوام کریں گے۔
بنگلہ دیش کی سیاست میں بھارت کے ساتھ تعلقات ایک حساس مسئلہ ہے۔ آج بی این پی سمیت تمام سیاسی جماعتیں عوامی لیگ کی حمایت کرنے پربھارت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔اس حوالے سے طارق رحمان کا قف ہے کہ اگربھارت نے ایک آمر کو پناہ دے کر بنگلہ دیشی عوام کو ناراض کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ بنگلہ دیشی عوام نے ان سے فاصلہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تو میں اپنےلوگوں کے ساتھ کھڑاہوں۔












