اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سکھر،حیدرآباد موٹروے ایم-6 منصوبے کو پانچ مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ، جبکہ منصوبے پر تعمیراتی کام رواں مالی سال کے دوران شروع کیے جانے کا امکان ہے۔یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں بتائی گئی، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اعجاز حسین جکھرانی نے کی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم-6 موٹروے منصوبہ پانچ سیکشنز پر مشتمل ہوگا، جن میں حیدرآباد تا ٹنڈو آدم، ٹنڈو آدم تا نواب شاہ، نواب شاہ تا نوشہرو فیروز، نوشہرو فیروز تا رانی پور، اور رانی پور تا سکھر شامل ہیں۔حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ مختلف انتظامی اور مالی وجوہات کے باعث یہ منصوبہ پہلے ہی پانچ برس سے زائد تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی مداخلت، ترسیلاتِ زر بڑھانے پر بینکوں کو دی جانے والی مراعات ختم
کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 70 ارب روپے درکار ہیں، تاہم رواں مالی سال کے بجٹ میں ابتدائی طور پر 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بریفنگ کے مطابق منصوبے کے پہلے دو سیکشنز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ چوتھے اور پانچویں سیکشن کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک مالی معاونت فراہم کرے گا۔ تیسرے سیکشن کی تعمیر اوپیک فنڈ کے تعاون سے کی جائے گی۔
وزارت مواصلات نے کمیٹی کو منصوبے کے ہر سیکشن پر پیش رفت اور متوقع آغاز کے شیڈول سے بھی آگاہ کیا۔اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔







